کیا سعودی عرب میں پرنٹ صحافت کا دور ختم ہونے والا ہے؟

سعودی عرب کے متعدد شہروں اور کمشنریوں سے مقامی اخبارات غائب ہونے پر مملکت میں پرنٹ میڈیا کے حال و مستقبل کی بابت سعودی صحافیوں، دانشوروں اور سکالرز کے حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔
سعودی عرب میں بیشتر اخبارات تقسیم کرنے والی وطنیہ ڈسٹری بیوشن کمپنی نے گزشتہ دنوں فیصلہ کیا تھا کہ الجوف، عرعر، القریات، الدوادمی، حفر الباطن، باحہ، نجران، القویعہ، الخفجی، حائل، الزلفی، ینبع، تبوک، شقراء،  الجبیل اور الاحساء میں اخبارات کی تقسیم مکمل طور پر بند ہوگی جبکہ دیگر کئی علاقوں میں جزوی طور پر بندش کی جائے گی۔
ان میں جدہ کے عسقلان، خلیص، القروسیہ، السنابل، الخمرہ، القرنیہ، بحرہ، کلو 16، المحامید جبکہ مکہ کے الجموح، الشرائع اور الزایدی میں اخبارات کی تقسیم بند کر دی گئی ہے۔
جیزان میں العارضہ اور ابو عریش، ابہا میں النماص، الدرب، محایل، احد رفیدہ اور قصیم کی 10 شاخیں اخبارات سے محروم ہو گئی ہیں۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے 10 صحافتی اداروں میں سے کسی ایک نے بھی اخبارات کی تقسیم روکنے کے واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔
 الوطنیہ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل عبدالعزیز السحلی نے بتایا کہ ’ہمیں روزانہ سعودی اخبارات کی ایک لاکھ 30 ہزار کاپیاں ملتی ہیں، ان میں سے مملکت بھر میں صرف 30 ہزار کاپیاں فروخت ہو رہی ہیں۔‘
معروف صحافی فہد الاحمدی کہتے ہیں کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اخبارات کی خریداری کس حد تک متاثر ہوچکی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2006 میں صرف الریاض اخبار کی دو لاکھ کاپیاں روزانہ شائع ہوا کرتی تھیں۔
السحلی کا کہنا ہے کہ ’ہم مستقبل میں صرف ایسے علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے جہاں اخبارات کی مانگ ہوگی۔
جرمنی، برطانیہ اور امریکہ میں بہت سارے اخبارات بند اور کئی ڈیجیٹل ہوگئے۔ فوٹو اے ایف پی

عبدالعزیز السحلی نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الوطنیہ ڈسٹری بیوشن کمپنی نے سعودی اخبارات کو خریداری کی شرح بڑھانے کے لیے ایک ہفتے کا موقع دیا ہے۔  اس دوران صحافتی ادارے ایسے مقامات پر جہاں ان کے روزناموں کی مانگ نہیں ہے، انہیں مقبول بنائیں تاکہ کم از کم ان کی لاگت نکل آئے۔
السحلی کا کہنا ہے کہ ’ہم مستقبل میں صرف ایسے علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے جہاں اخبارات کی مانگ ہوگی۔ اس کا فائدہ صحافتی اداروں کو ہی ہوگا۔ ہم ان سے کم اخبارات لیں گے تو انہیں اشاعت کی لاگت بچانے کا موقع ملے گا۔
’الوطنیہ ڈسٹری بیوشن کمپنی دہرا نقصان جھیلنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ کمپنی نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل تین ماہ تک سروے کرایا تھا۔ تمام صحافتی اداروں کو سروے کے نتائج سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ الوطنیہ نے جو فیصلہ کیا وہ اس کے لیے ناگزیر ہو گیا تھا۔ صحافتی اداروں کے ذمے ہمارے 35 ملین ریال (9ملین ڈالر سے زیادہ) ہیں۔‘
السحلی نے بتایا کہ کمپنی کی آمدنی اور ڈسٹری بیوشن کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔ ’ہماری کمپنی شہروں میں اخبارات کی تقسیم کا سلسلہ جاری رکھے گی البتہ ایسے مقامات پر جہاں اخبارات کی طلب نہیں ہے وہاں ان کی تقسیم اپنے ذمہ نہیں لے گی۔‘
مملکت کے مذکورہ علاقوں میں اخبارات کی تقسیم بند کرنے کے فیصلے پر بعض لوگوں نے رنج و ملال کا اظہار کیا۔ انہوں نے روایتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ وہ اخبارات ہیں جو طویل عرصے تک ابلاغ و آگہی کا کام انجام دیتے رہے اب ان میں اتنی بھی سکت نہیں رہی کہ وہ اپنے قارئین تک رسائی کی لاگت ہی پوری کر سکیں ۔
دیگر نے رائے دی کہ دراصل دنیا کے مختلف علاقوں میں روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کی دراندازی کے ماحول میں پرنٹ میڈیا کا انجام یہی ہونا تھا۔
 اخبارات خریدنے اور اشتہارات میں کمی عالمی بحران کا حصہ ہے۔
 اخبارات خریدنے اور اشتہارات میں کمی عالمی بحران کا حصہ ہے۔ فوٹو اے ایف پی

کسی نے کہا کہ یہ صحافت کا جنازہ نکالنے والا اقدام ہے۔ دیگر نے خیال ظاہر کیا کہ صحافتی اداروں کو جدید ابلاغ کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ٹھوس تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
بعض لوگوں نے توجہ دلائی کہ صحافتی اداروں نے زبردست  وسائل کے باوجود نہ تو اشاعت کے طور طریقے بدلے اور نہ ہی خبروں، تبصروں اور تجزیوں کو جدید انداز میں پیش کرنے کا کوئی اہتمام کیا لہذا یہ انجام تو ہونا ہی تھا۔
ابلاغ کے ماہر اور سکالر ڈاکٹر محمد الحیزان نے کہا کہ ’صحافت ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی البتہ ابلاغ کی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق طور طریقے اور انداز بدلتے رہے ہیں اور بدلتے رہیں گے۔‘
الوطن اخبار کے سابق ایڈیٹر انچیف اور عناوین نیوز ویب کے ایڈیٹر انچیف طارق ابراہیم نے الشرق الاوسط سے گفتگو میں کہا کہ پوری دنیا میں اخبارات خریدنے اور اشتہارات میں کمی عالمی بحران کا حصہ ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ابلاغ اور رابطے کے ذرائع میں تبدیلی آرہی ہے۔
طارق ابراہیم نے کہا کہ ’اخبارات بھاری منافع دے رہے تھے مگر آج تک یہ منافع اخبارات پر خرچ نہیں کیا گیا۔‘
ابراہیم نے اس حوالے سے ایک اور تیکھی بات یہ کہہ دی کہ ’اب تو سعودی عرب میں نیوز ویب کو بھی لوگ نظر انداز کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے ایک اور چبھتی ہوئی بات یہ کہی کہ سعودی اخبارات نے غرور اور ضد کا مظاہرہ کیا۔
بعض صحافیوں اور دانشوروں نے توجہ دلائی کہ متعدد علاقوں سے اخبارات غائب ہونے کا واقعہ ٹی وی چینلزکے المیے کی بھی یاد دلا رہا ہے۔
سیٹلائٹ چینلز کے زمانے میں ٹی وی چینلز نے قدیم طور طریقوں کو اپنائے رکھا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ان میں سے بعض کے دفاتر کو تالے لگ چکے ہیں جبکہ دیگر ناظرین کے پروگرام پیش کیے چلے جا رہے ہیں۔
سعودی صحافی حمد البکر نے مطالبہ کیا کہ اخبارات معاشرے کے لیے بیحد اہم ہیں۔ بہتر ہوگا کہ حکومت ان کی سرپرستی کرے۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ ہوا وہ فطری امر ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب میں ڈیجیٹل انقلاب آرہا تھا اور ہمارے صحافتی ادارے آنکھیں موندے ہوئے تھے۔ جرمنی، برطانیہ اور امریکہ جیسے ڈیجیٹل ممالک تک میں بہت سارے اخبارات  بند ہو گئے ہیں۔ ان اخبارات نے نشرو اشاعت کی دنیا میں ٹیکنالوجی کے عظیم اثرات کو تسلیم کرکے پرنٹ میڈیا کو خیر باد کہہ کر ڈیجیٹل کا راستہ اپنا لیا ہے۔‘
کئی عرب ممالک میں بھی یہی  منظر دیکھنے میں آیا ہے۔ لبنانی جریدہ السفیر بند ہو چکا ہے۔ کئی صحافتی ادارے ڈیجیٹل میڈیا میں قدم رکھنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ 
بعض صحافیوں نے تلخ حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’حقیقت یہی ہے کہ ہمارے اخبارات نے معاشرے کے مسائل کو اس انداز سے پیش نہیں کیا جس انداز سے پیش کرنا تھا اور روایتی طور طریقوں ہی سے چمٹے رہے۔ معیار اور تنوع پر توجہ نہیں دی۔ یہ اخبارات ٹویٹر، سنیپ چیٹ سمیت دیگر ایپلی کیشنز کا سہارا لے سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔‘
الثنیان نے کہا کہ بہت سارے عہدیدار اخبارات صرف نمود و نمائش کے لیے حاصل کرتے ہیں۔
الثنیان نے کہا کہ بہت سارے عہدیدار اخبارات صرف نمود و نمائش کے لیے حاصل کرتے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

’سمت‘ سینٹر برائے مطالعات کے ڈائریکٹر امجد منیف نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے مستقبل کی بابت بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ درپیش چیلنجوں، امکانات، خطرات اور طور طریقوں پر لمبی چوڑی بحثیں ہوچکی ہیں۔ بیشتر صحافتی اداروں نے وہ نہیں کیا جو انہیں کرنا تھا۔
سوشل میڈیا پر ایک نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ بعض اخبارات کی تقسیم کی جزوی بندش اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ اخبارات ہی نہیں بلکہ کتابوں کا انجام بھی یہی ہونے والا ہے۔
ماہر اقتصادیات فہد الثنیان نے کہا کہ ’اخبارات کی تقسیم بند ہونے سے اصل مسئلہ متاثر نہیں ہوگا۔ میرے خیال میں معاشرے کے امکانات ایسے کاموں میں لگائے جانے چاہئیں جن سے معاشرے کو فائدہ ہوتا ہو۔ فیالوقت اصلاح حال کی جو کوشش ہو رہی ہے اس پر رونا دھونا بند کرنا ہوگا۔‘
الثنیان نے کہا کہ بہت سارے عہدیدار اخبارات صرف نمود و نمائش کے لیے حاصل کرتے ہیں۔ اپنے دفتر سے اخبارات کا بنڈل بغل میں دبا کر گھر کا رخ کرتے ہیں۔ وہ اخبارات نہیں پڑھتے جبکہ دیگر لوگ جنہیں اخبارات کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی ایک اخبار کی ایک کاپی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ ’جنگ‘ کرتے ہیں۔
احمد العاید نامی صحافی نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر صحافتی ادارے اپنے وسائل بروئے کار لائیں تو اخبارات جاری رہ سکتے ہیں۔
نویں عشرے سے سعودی عرب میں نیوز ویب کا سلسلہ چل رہا ہے۔ یہ صحافتی اداروں کے لیے خاموش انتباہ تھا جسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ فیس بک، ٹویٹر جیسی ویب سائٹس نے رہی سہی کمی پوری کر دی۔ 

شیئر: