حج پر آنیوالے سیاسی نعرے بازی نہ کریں، سعودی کابینہ کا انتباہ

سعودی کابینہ نے حج پر آنیوالوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی یا فرقہ ورانہ نعرے بازی نہ کریں۔مقدس مقامات کے روحانی ماحول اور ان کی منفرد حیثیت کا احترام کریں ۔ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے حج کا پاکیزہ ماحول مکدر ہو اور سیاسی یا فرقہ وارانہ نعرے بازی سے ان کا سکون غارت ہوتا ہو ۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں کابینہ نے انتباہ دیا کہ حج موسم میں سیاسی یا فرقہ وارانہ نعرے بازی کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔سعودی حکومت حج موسم کو سیاسی سرگرمیوں سے پاک رکھنے کےلئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔نعرے لگانے والوں کے خلاف مقررہ قوانین و ضوابط کے مطابق کارروائی ہو گی ۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جدہ کے قصر السلام میں منعقدہ اجلاس کے آغاز میں تمام سرکاری اور نجی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ حج پر آنے والے تمام مہمانوں کو حج کے کام انجام دینے میں آسانیاں فراہم کریں ۔ امن و امان مہیا کریں اور ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں اوربری سرحدی چوکیوں پر معیاری خدمات پیش کریں ۔ ہر برس کی طرح امسال بھی مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف نیز منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات آنیوالوں کو حج شاہراہوں پر تمام سہو لتیں فراہم کریں ۔ 
بعض طاقتیں حج موسم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کےلئے سیاسی نعرے بازی یا فرقہ وارانہ ہنگامے برپا کرنے کی اسکیمیں بناتی ہیں۔ اپنے زیر اثر افراد کو ایسا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں ۔سعودی عرب اس حوالے سے غیر متزلزل پالیسی اپنائے ہوئے ہے کہ کسی بھی فرد یا تنظیم یا فرقے یا ریاست کو حج موسم سے کسی بھی طرح کا سیاسی یا مسلکی یا فرقہ وارانہ فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سعودی میڈیا کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی سعودی عرب کے اس موقف سے پوری طرح متفق ہے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین نے ایک دن قبل ہی بیان جاری کر کے توجہ دلائی تھی کہ حج مذہبی اجتماع ہے یہ نعرے بازی کی سیاسی تقریب نہیں۔ انہوں نے سب لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ حج کے موقع پر مذہبی ماحول کو بگاڑنے والے ہر عمل سے دور رہیں۔ 
العثیمین نے رکن ممالک اور غیر مسلم ممالک سے آنیوالے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ سعودی حکومت اور اس کے حج اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل نے یاد دہانی کرائی کہ عمان کانفرنس میں او آئی سی کے رکن ممالک نے سفارش کی تھی کہ سعودی عرب کسی بھی گروپ کو حج موسم میں سیاسی یا فرقہ وارانہ نعرے بازی کی اجازت نہیں دیتا ، سب اس کا احترام کریں۔
سعودی عرب سمیت دنیائے اسلام کے معروف علماءنے بھی موقف واضح کیا کہ حج خالص دینی اجتماع ہے ۔اس میں سیاست اور فرقہ واریت بھڑکانے والا کوئی کام نہ کیا جائے۔ 

شیئر: