سعودی ریسرچ اینڈ میڈیا گروپ (ایس آر ایم جی) کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) جمانا الراشد نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت انسانی تخلیق کاری کی جگہ نہیں لے سکتی۔
عرب نیوز میں جمعے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جمانا الراشد نے شوریٰ آئی لینڈ میں منعقدہ ’دی فیملی آفس‘ کے ’انویسٹنگ اِز اے سی‘ سمٹ کے دوران ایک سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کبھی بھی انسانی تخلیق کاری کا متبادل نہیں لا سکتے۔ صحافت اور مواد سازی کا اصل مقصد کہانی بیان کرنا ہے اور یہ ایک ایسا تخلیقی کام ہے جو اے آئی فی الحال کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس انسانی کردار کو کبھی ختم نہیں کریں گے جو کہ کہانی سناتا ہے، اس پر تحقیقاتی رپورٹنگ کرتا ہے اور سچ کو جھوٹ سے یا حقائق کو غلط معلومات اور تعصب سے الگ کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں
’الشرق وِد بلومبرگ‘ کی سینیئر بزنس اینکر مایا حجیج کی میزبانی میں ایک سیشن کے دوران جمانا الراشد نے بتایا کہ ایس آر ایم جی نے اے آئی کو انقلابی انداز میں اپنایا ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم اب اپنے تمام مواد کا ترجمہ، دستاویزی فلموں کی تیاری، فیکٹ چیکنگ اور ویڈیو کلپنگ جیسے کام اے آئی کی مدد سے کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی مستقبل ہے۔‘
مستقبل کا صحافی کیسا ہو گا؟ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک صحافی بھی ہو گا اور ایک انجینیئر بھی جسے ڈیٹا کو سمجھنے کی ضرورت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں خطے کی میڈیا کمپنیوں نے ڈیٹا کی اہمیت کو صحیح طور پر نہیں سمجھا تھا لیکن پولنگ اور سرویز کے بجائے اب اے آئی کی بدولت ناظرین کی پسند و ناپسند کے بارے میں تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔
اس نشست کے دوران جمانا الراشد سے پوچھا گیا کہ عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ کے میڈیا کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ اس پر ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دہائیوں کے دوران اس میڈیا نے وسیع تر سامعین کو ان مسائل سے آگاہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو سیاسی، ثقافتی اور معاشی طور پر انتہائی پیچیدہ تھے اور یہ اب بھی اپنا وہ کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا ’سوشل میڈیا، سٹیزن جرنلسٹس اور کونٹینٹ کریئیٹرز (ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مواد تخلیق کرنے والوں) کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر اب میڈیا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ اسے اے آئی کی طاقت سے مزید تقویت ملی ہے۔ اب آپ فوری طور پر یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ معتبر، درجہ اول اور عالمی معیار کے صحافیوں کا تیارکردہ مواد اپنی سرحدوں سے باہر نکلے اور مختلف جغرافیائی خطوں، مختلف لوگوں اور ممالک تک مختلف زبانوں اور فارمیٹس میں فوری طور پر پہنچ جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ عرب میڈیا کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ صرف عرب دنیا کے استعمال تک محدود نہ رہے بلکہ سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر مختلف زبانوں میں دستیاب ہو اور عالمی سامعین و ناظرین کی ضروریات کو پورا کرے۔
سی ای او نے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کیا اور ایک واضح وژن، مضبوط حکمت عملی اور ٹیم کے مکمل ہم آہنگ ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔

سی ای او ایس آر ایم جی نے کہا ’صورتحال بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ ماضی میں ہم ناظرین کی تعداد پر ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے تھے لیکن اب ہمارا مقابلہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اشتہارات کی آمدن کا 80 فیصد حصہ سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں دلچسپی کے 80 فیصد مواقع موجود ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اصل چیلنج ان پلیٹ فارمز پر ایسا موزوں مواد تیار کرنا ہے جو ٹارگٹڈ آڈیئنس (یعنی آپ کے ناظرین و قارئین) کو جوڑے رکھے اور تجارتی شراکت داریوں کو ممکن بنائے۔‘
’یہی وجہ ہے کہ ہم نے کھیلوں جیسے نئے شعبوں میں قدم رکھا ہے اور ’لائف سٹائل‘ کے شعبے پر اپنی توجہ دوگنا کر دی ہے۔ لائف سٹائل کے حوالے سے ہمارا مارکیٹ شیئر سب سے زیادہ ہے اور ہم نے ’بِل بورڈ عربیہ‘ جیسے نئے پلیٹ فارمز لانچ کیے ہیں جو موسیقی کی دنیا میں ہماری رسائی کو ممکن بناتے ہیں۔‘
جمانا الراشد نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ان کا گروپ (ایس آر ایم جی) مختلف پلیٹ فارمز پر اشتہارات کی آمدن میں ہونے والی کمی کا مقابلہ کرنے اور نئی مصنوعات متعارف کروانے کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک اور اہم چیز جو ہم نے تخلیق کی ہے وہ ان برانڈز کے ساتھ منسلک ’ایونٹس‘ہیں جو اس خطے میں 30 سال سے زائد عرصے سے ہو رہے ہیں۔ آج کے دور میں ایسا کوئی بھی برانڈ جس کے ساتھ کوئی ایونٹ منسلک نہیں، وہ ایک بڑے تجارتی موقع سے محروم ہو رہا ہے۔ یہ تقریبات ہمیں ایک کمرے میں بیٹھنے، خیالات کا تبادلہ کرنے اور سکرین سے باہر ایک دوسرے کو جاننے کا موقع دیتی ہیں۔‘
جمانا الراشد نے مزید کہا کہ میڈیا کی صنعت میں تبدیلی اور خلل اب مستقل ہے اور اس شعبے کا مستقبل سٹوری ٹیلنگ یعنی کہانی سنانے اور ایسا پُرکشش مواد تیار کرنے کی صلاحیت میں ہے جو براہِ راست سامعین کے دلوں میں اتر جائے۔
’لیکن اگلی بڑی تبدیلی اے آئی سے آئے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ طاقت ور ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے ترقی کرتی ہے اور کیا ہم اس کا سامنا کرنے، اسے اپنانے اور اسے مکمل طور پر خود میں سمونے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں۔‘
![]()











