سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق علاقہ میں موجود آثار قدیمہ صدیوں پر محیط انسانی سفر کے تاریخی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔
’حمی الثقافیہ‘ کا علاقہ 557 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اس میں 550 چٹانی نقوش موجود ہیں جن پر جانوروں ، پودوں ، شکار کے مناظر اور قدیم انسانی طرز زندگی کی جھلیاں لیے دسیوں ہزار نقوش و تصاویر کنندہ ہیں ۔
عہدِ رفتہ میں علاقہ اہم تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتا ہوگا(فوٹو، ایس پی اے)
علاقے کے اس مقام کو یونیسکو نے غیرمعمولی عالمی ثقافتی اہمیت کے حامل ورثے کے طورپر عالمی فہرست میں بھی شامل کیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ علاقے کو دنیا کے سب سے بڑے چٹانی فن کے مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مقام ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جو عہدِ رفتہ میں قافلوں کی اس گزرگاہ کے سنگم پر واقع تھا جو جزیرہ عرب سے گزرتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق قدیم زمانے میں یہ علاقہ ایک اہم تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتا ہو گا یہاں مختلف علاقوں سے تجارتی قوافل آتے اوراپنا سامان تجارت فروخت کرتے تھے۔
سیاحوں کے لیے یہ علاقہ اہم تاریخی مقام مانا جاتا ہے(فوٹو،ایس پی اے)
’حمی‘ کی چٹانوں پر پائے جانے والے تحریری نقوش مختلف قدیم رسم الخط اور زبانوں میں ہیں جن میں ثمودی ، نبطی ، آرامی ، سریانی اور یونانی شامل ہے۔
یہاں اسلام کے ابتدائی دور کے عربی نقوش بھی ملتے ہیں جو جدید عربی رسم الخط کے ابتدائی دور کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں پائے جانے والے نقوش مختلف ادوار میں انسانی ماحول اور طرز زندگی کی مکمل تصویر بھی پیش کرتے ہیں اسی وجہ سے حمی الثقافیہ کا علاقہ ماہرین آثار قدیمہ اور محقیقین کے لیے اہم سائنسی اورحقیقی مقام بن چکا ہے۔
جبکہ نجران آنے والے سیاحوں کےلیے یہ ایک نمایاں تاریخی و سیاحتی مقام ہے۔