ولیمسن: اب تک اپنے جذبات سے مقابلہ کر رہا ہوں

کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی جیت اور نیوزی لینڈ کی ہار نے آئی سی سی قوانین پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، فوٹو: اے ایف پی
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کین ولیم سن نے ورلڈ کپ فائنل کے نتیجے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فائنل میچ کے ’بے مثال نتیجے‘ کے بعد سے وہ اب تک اپنے جذبات سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ولیم سن نے کہا کہ ان کو اور ان کی ٹیم کو ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں پیدا ہونے والی صورتحال کو پوری طرح سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ دو مہینے مختلف ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد ان کی ٹیم فائنل میں پہنچی اور اس کے بعد سکور ٹائی ہو گیا۔ یہ بہت ہی عجیب احساس ہے کہ کسی بھی (ٹیم) نے میچ نہیں ہارا لیکن اس کے باوجود جیت کا سہرا ایک ٹیم (انگلینڈ) کے سر پر سجا۔‘
ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی جیت اور نیوزی لینڈ کی ہار پر آئی سی سی کے ’سپر اوور‘ کے حوالے سے قوانین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ناقدین کے خیال میں ٹرافی صرف انگلینڈ کو ملنے کے بجائے نیوزی لینڈ کو بھی مشترکہ فاتح قرار دینا چاہیے تھا۔ چند ناقدین کے خیال میں ٹرافی کی اصل حقدار نیوزی لینڈ کی ٹیم تھی، کیونکہ انہوں نے سب سے کم  وکٹیں کھوئی تھیں۔
 نیوزی لینڈ ٹیم کے کوچ گیری سٹیڈ نے بھی آئی سی سی کو اپنے قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ولیم سن کا کہنا تھا کہ ’ہار اور جیت کے درمیان بہت ہی باریک لکیر تھی‘ اور’ایسی صورتحال میں بہت کچھ آپ کے قابو سے باہر ہوتا ہے اور حالات ایسا رخ اختیار کر جاتے ہیں جو (اس دن) ہوا۔‘
انہوں نے ورلڈ کپ کے نتیجے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو مرتبہ کی کوششوں کے باوجود میچ ’ٹائی‘ ہو گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں نے سخت مقابلہ کیا اورغیر واضح باریکیوں نے جیت کا فیصلہ کر ڈالا۔
ولیم سن نے کہا کہ جس طرح سے ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ میچز کے دوران کارکردگی دکھائی ہے، اس پر انہیں فخر ہے۔

شیئر: