Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پیپلز پارٹی کی حکومتی کمیٹیوں میں شمولیت،’پنجاب میں قدم جمانے کا دوبارہ موقع‘

پیپلز پارٹی کے مطابق مسلم لیگ ن سے پنجاب میں یہ کمیٹیاں بنانے کا دیرینہ مطالبہ تھا: فائل فوٹو اے ایف پی
پاکستان پیپلز پارٹی بالآخر پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ساتھ اقتدار میں حصہ داری میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ حصہ داری کابینہ میں وزارتیں لینے کے بجائے ضلعی سطح پر قائم کی گئی خصوصی ہم آہنگی کمیٹیوں کے ذریعے ہو گی۔
پنجاب حکومت نے حال ہی میں آٹھ اضلاع کی ان ہم آہنگی کمیٹیوں کے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹیوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں کو شامل کیا ہے۔
یہ اضلاع قصور، ساہیوال، سرگودھا، بہاولپور، اٹک ، فیصل آباد، سیالکوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ہیں۔
ان ضلعی ہم آہنگی کمیٹیوں کے اختیارات میں ضلعی ترقیاتی پروگرام کی نگرانی، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل میں مدد اور سرکاری محکموں کے خلاف شکایات کا ازالہ شامل ہے۔
یہ کمیٹیاں ہر 15 دن بعد اجلاس منعقد کریں گی اور ہر اجلاس کی رپورٹ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو پیش کی جائے گی۔ یہ کمیٹیاں بنیادی طور پر مسلم لیگ ن کے وزرا اور قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل ہیں، جن میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس افسران اور مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔
یہ پیش رفت پچھلے ڈیڑھ سال سے جاری بات چیت کا نتیجہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان گورنر ہاؤس میں متعدد اجلاس منعقد ہوئے، جن میں درجنوں ملاقاتیں شامل تھیں۔ دونوں جماعتیں ایک قابل عمل طریقہ کار پر غور کرتی رہیں اور بالآخر ایک فارمولہ طے پا گیا، جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ترقیاتی فنڈز میں حصہ اور ضلعی سطح پر اثر و رسوخ دینے پر اتفاق ہوا۔
پنجاب میں پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے ڈپٹی سیکریٹری انفارمیشناحسن رضوی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’مسلم لیگ ن سے ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا کہ پنجاب میں یہ کمیٹیاں بنائی جائیں تاکہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور عہدیدار پنجاب میں عوامی خدمت جو کہ سرکاری معاملات سے جڑی ہیں ان کو آسانی سے انجام دے سکیں۔ ہمارے خیال میں اس کو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا اور ابھی بھی صرف آٹھ اضلاع کے نوٹیفیکیشن ہوئے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت تمام 41 اضلاع میں یہ کمیٹیاں بننی تھیں۔ لیکن دیر آید درست آید۔‘
ماہرین کے مطابق  اس شراکت اقتدار کا مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی کاموں میں حصہ ملے گا۔ یہ قدم دونوں جماعتوں کے درمیان  تعاون میں توسیع بھی ہے، جو ملکی سیاسی منظر نامے کو مزید ہم آہنگ بنا سکتا ہے۔

کمیٹیوں میں شامل ہونے سے ماہرین کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی سطح پر اثر و رسوخ  میں اضافہ ہو گا : فائل فوٹو اے ایف پی

سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’پیپلزپارٹی نے اس دفعہ دلچسپ سیاست کی ہے اس طرح کے نچلی سطح پر اقتدار سے ان کے دو مسئلے حل ہوئے ہیں ایک تو گراس روٹ لیول پر وہ اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کے لیے گراونڈ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یعنی اب ضلعی صرف ن  لیگ کے ایم پی اے یا ایم این اے اور وزرا ہی ترقیاتی کام نہیں کروا سکتے بلکہ پیپلزپارٹی کے عمائدین اور ٹکٹ ہولڈرز بھی اتنی ہی طاقت کے مالک ہوں گے۔ پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ اس سے ان کو پنجاب میں قدم جمانے کا دوبارہ موقع ملے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ترقیاتی کام اور فنڈز میں حصہ داری تو پیپلزپارٹی نے باقاعدہ زور آزمائی کر کے لے لی ہے لیکن اب بھی وفاق اور پنجاب میں حکومت ن لیگ کی ہی ہے یعنی وہ کابینہ کا حصہ نہیں بنے۔ حکومتی سطح پر گڈ گورننس یا پالیسیوں پر اگر تنقید ہو گی تو وہ صرف اور صرف ن لیگ کے حصے میں آئے گی۔ میرا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کی ایک اچھی سیاسی چال ہے اور مجھے یاد ہے اور 2024 سے ہی اس فارمولے کے لیے ن لیگ پر دباؤ ڈال رہے تھے اور اب وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘
خیال رہے کہ نوٹیفیکیشنز کے مطابق یہ کوارڈینیشن کمیٹیاں عملی طور پر اضلاع کو چلائیں گی اور ان میں ضلعی انتظامیہ کے تمام ایگزیکٹو افسران ہوں گے۔ ڈی پی او، ڈی سی، صحت اور تعلیم کے ضلعی افسران بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ اور یہ افسران ان کمیٹیوں کو جواب دہ ہوں گے۔
 

شیئر: