Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو پناہ دے دی

آسٹریلین وزیر داخلہ ٹونی برک نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو پناہ دے دی ہے، جو ایران جنگ شروع ہونے کے وقت ایک ٹورنامنٹ کے لیے ملک میں موجود تھیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق منگل کی علی الصبح آسٹریلوی وفاقی پولیس نے کھلاڑیوں کو گولڈ کوسٹ میں واقع ہوٹل سے منتقل کر کے ایک محفوظ مقام پر پہنچایا۔ وہاں ان کی ٹونی برک سے ملاقات ہوئی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے ویزوں کی کارروائی مکمل کی گئی۔
برک نے کہا، 'ٹیم کے دیگر ارکان کے لیے بھی یہی موقع موجود ہے۔ آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کو اپنے دلوں میں جگہ دی ہے۔'
مقامی میڈیا کے مطابق سکواڈ میں تقریباً 20 کھلاڑی شامل تھیں۔ برک نے ان خطرات کی تفصیل بیان نہیں کی جن کا سامنا واپسی پر انہیں ایران میں ہو سکتا تھا، تاہم ان کی پناہ کی درخواستیں آسٹریلیا میں مقیم ایرانی گروپس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آسٹریلوی حکومت سے مدد کی اپیل کے بعد سامنے آئیں۔
ایرانی ٹیم گزشتہ ماہ ویمنز ایشین کپ کے لیے آسٹریلیا پہنچی تھی، جو ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے تھا۔ ٹیم گزشتہ ہفتے کے آخر میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی اور اسے ایران واپس جانا تھا۔
آسٹریلیا کی قومی خبر رساں ایجنسی اے اے پی کے مطابق ایران کی ہیڈ کوچ مرضیہ جعفری نے اتوار کو کہا تھا کہ کھلاڑی جتنی جلد ممکن ہو ایران واپس جانا چاہتی ہیں۔
ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں نے زیادہ تر اپنے ملک کی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ایرانی فارورڈ سارا دیدار اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور دیگر ایرانیوں کے لیے تشویش بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔
گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے خلاف ابتدائی میچ سے قبل قومی ترانے کے دوران ٹیم کی خاموشی کو بعض حلقوں نے مزاحمت اور بعض نے سوگ کی علامت قرار دیا، تاہم ٹیم نے اس بارے میں وضاحت نہیں کی۔ بعد ازاں باقی دو میچوں میں کھلاڑیوں نے ترانہ پڑھا اور سلامی بھی دی۔
برک نے کہا، 'یہ خواتین آسٹریلیا میں بے حد مقبول ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں کے حوالے سے نہایت مشکل صورتحال سے گزر رہی ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو آسٹریلوی حکام سے بات کرنے کا موقع بدستور موجود رہے گا۔
برک کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو واشنگٹن میں آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ جو بھی کھلاڑی چاہے اسے پناہ دی جائے۔ اس سے قبل اسی روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر آسٹریلیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیم کو ایران واپس بھیجنا 'سنگین انسانی غلطی' ہوگی اور امکان ہے کہ انہیں وہاں قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر آسٹریلیا ایسا نہیں کرتا تو امریکا انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
دو گھنٹے سے بھی کم وقت بعد ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیزی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، 'وہ اس معاملے پر کام کر رہے ہیں، پانچ کھلاڑیوں کا معاملہ حل ہو چکا ہے اور باقی بھی آ رہے ہیں۔'
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ کچھ کھلاڑی اپنے خاندانوں کی سلامتی کے خدشات اور مبینہ دھمکیوں کے باعث واپسی پر مجبور ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے پناہ کی پیشکش کو ان کے مؤقف میں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی انتظامیہ سیاسی بنیادوں پر پناہ پانے والے تارکین وطن کی تعداد محدود کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

شیئر: