انڈیا کو مطلوب ملزم سعودی عرب سے کیسے پکڑا گیا ؟

سنیل کمار 13 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں مطلوب تھا
 انڈیاکو مطلوب ملزم سعودی عرب کے شہر ریاض سے گرفتار کر کے ر یاست کیرالہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
 سبق نیوز کے مطابق انڈین ریاست کیرالہ کا رہائشی38 سالہ سنیل کمار شیڈول کاسٹ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی13 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں مطلوب تھا اور2 سال قبل فرار ہو کر سعودی عرب آگیا تھا۔
 انڈین پولیس بدھ کی صبح انٹرپول کے تعاون سے ملزم سنیل کمار کو واپس لانے میں کامیا ب ہوگئی ۔ انٹرپول کی اطلاع پر سعودی پولیس نے سنیل کمار کو 3ہفتے قبل گرفتار کر لیاتھا ۔ 
کیرالہ پولیس کی خصوصی ٹیم خاتون پولیس کمشنر میرین جوزف کی سربراہی میں ریاض پہنچی تھی ۔سنیل کمار کو کیرالہ واپس لانے میں خاتون پولیس کمشنرنے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کمشنر نے جون 2019 میں چارج سنبھالنے کے بعد زیرالتوا مقدمات خصوصا خواتین اور بچوں سے متعلق کیسز نمٹانے پر توجہ دی ۔ بچی سے زیادتی کے مقدمے کی فائل پر بھی گرد جم گئی تھی۔ خاتون پولیس کمشنر نے ملزم کو تلاش کرنے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ۔کیرالہ پولیس کی درخواست پر انٹرپول نے ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا تھا۔
 خاتون پولیس کمشنر میرین جوزف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی گرفتاری اور واپسی انٹرپول کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔سنیل کمار پہلا ملزم ہے جسے سعودی عرب اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد ریاست کیرالہ ڈی پورٹ کیا گیا۔
 انڈین خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ملزم سنیل کمار نے 2017 میں13سالہ بچی کو ریاست کیرالہ میں اپنے آبائی گاﺅں کلپانہ میں اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ چھٹیوں پر آیا ہو اتھا۔ ملزم کو اس کے دوست نے متاثرہ بچی کے خاندان سے متعارف کرایا تھا ۔ زیادتی کے واقعہ کے بعد متاثرہ بچی نے 8جولائی2017 کو خود کشی کرلی تھی ۔
واضح رہے کہ انڈیا میں بچوں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں ۔ اعداد وشمار کے مطابق2017 میں ریاست کیرالہ میں3ہزار543مقدمات درج ہوئے۔ جس میں ایک ہزار سے زائد زیادتی سے متعلق تھے ۔2018 میں زیادتی کے ایک ہزار204 مقدمات سمیت ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ اس سال اپریل تک رجسٹرڈ مقدمات کی تعداد ایک ہزار394 ہے۔ جس میں زیادتی کے397 کیسز ہیں۔
 

شیئر: