50 سال میں حج مقامات کا منظر نامہ تبدیل‘

سنہ 1971میں بحری جہاز سے حج کے لیے جدہ پہنچنے والی انڈونیشی حاجن رومیاتی تقریبا نصف صدی بعد دوسرے حج کے لیے سعودی عرب پہنچی ہیں۔
سعودی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 48 برس قبل انڈونیشیا سے سعودی عرب تک کا سفر بحری جہاز سے ایک ماہ دو دن میں طے کیا تھا۔ اب ہوائی جہاز سے پہنچی ہوں۔ ان 48 برسوں میں حج مقامات کا سارا منظر نامہ بدل گیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق رومیاتی نے کہا کہ 2019 کے حج پر دستیاب سہولتوں اور 1971 کے حج میں مہیا سہولتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ان 48 برسوں میں حج مقامات کو سارا منظر نامہ بدل گیا۔
 ٹوئٹر پر سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کر دہ ویڈیو میں  رومیاتی نے بتایا کہ حج کا پہلا سفر 1971میں کیا تھا ۔ اس وقت مسجد الحرام ، منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کا حال آج سے بالکل مختلف تھا۔اس وقت آب زم زم ،کنویں سے ڈول کے ذریعے نکال کر پیا تھا ۔
رومیاتی کا کہنا ہے کہ جب پہلا حج کیا تھا تو سب کچھ روایتی شکل کا تھا۔اب تو دنیا ہی بدل گئی ہے ۔ رومیاتی ان دنوں حجاج کی انچارج کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
ویڈیو میں انڈونیشی خاتون نے سعودی عرب میں حاجیوں کو دی جانے والی سہولتوں کی تعریف کی اور کہا کہ روڈ ٹو مکہ پروگرام نے تو سہولتوں کی انتہا کر دی ہے ۔اس کے تحت امیگریشن ، کسٹم ،سامان کی نشاندہی اور ویکسین سرٹیفکیٹ چیک کرنے کی ساری کارروائی جکارتہ ہی میں مکمل ہو گئی ۔سعودی عرب پہنچنے پر صرف پاسپورٹ دکھانا پڑا اور لمحوں میں ائیروپلین سے اتر کر بسوں میں سوار ہوگئے۔

شیئر: