منیٰ میں پاکستانی ہوٹل کی مقبولیت 

 منیٰ میں پاکستانی ہوٹل غیر معمولی طور پر مقبول رہے ۔ سبز ہلالی پرچم والے ہوٹلوں پر حجاج کرام بڑی تعداد میں دیکھے گئے ۔ منی میںاگرچہ حج خدمات فراہم کرنے اداروں کی جانب سے اپنے حجاج کے لئے کھانے کا بندوبست کیا جاتاہے اس کے باوجود اکثر حجاج ہوٹلوں کا بھی رخ کرتے ہیں ۔ 
سب سے زیادہ دودھ پتی چائے کے اسٹالوں پر لوگوں کا رش دیکھا گیا ۔ سعودی عرب میں مقیم حجاج کا کہنا تھا کہ انکے خیمے کا فی دور ہونے کی وجہ سے وہ گھوم گھوم کر بھوک کا شکار ہو گئے۔ اسی لئے اس جگہ جہاں ہوٹل پر پاکستانی جھنڈا دکھائی دیتا ہے ہم وہاں رک جاتے ہیں ۔
 پشاور سے آنے والے عبدالصمد کاکہنا تھا کہ حج کے دوران قیام منی میں سبز ہلالی پرچم دیکھ کر دل کو بہت اچھا لگا ۔ دور سے پرچم لہراتا دیکھ کر یہاں آگئے تاکہ اپنی زبان بولنے والوں کے ساتھ کچھ وقت گزرا سکیں ۔ 
حجاج کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ قیمتوں کے حوالے سے مناسب اقدام کریں کیونکہ جو چائے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میںایک ریال میںلیتے ہیں وہ یہاں 3 ریال میں ملتی ہے ۔ سعودی حکومت نے حج کے لئے مثالی انتظامات کئے ہیں وہاں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کےلئے بھی خصوصی اقدامات کئے جائیں ۔ 
ایک اور پاکستانی حاجی احمد علی کا کہنا تھا کہ 3 ریال کی چائے ہمیں بہت مہنگی لگتی ہے جبکہ وہی چائے مکہ مکرمہ میں ایک ریال میں ملتی ہے تو یہاں کیوں اس کی قیمت 3 گنا کردی جاتی ہے ۔ اگر اس جانب توجہ دی جائے تو کافی بہتر ہو گا ۔ نظام الدین کاکہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ مقامی افراد اپنے کاروبار کی فکر کرتے ہیں مگر انہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اگر وہ قیمت مناسب رکھیں تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اگر مکہ مکرمہ میں چائے ایک ریال میں ملتی ہے جس میں انہیں منافع بھی ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ یہاں آکر 3 گنا کر دیتے ہیں یہ غلط ہے حج ایام میں قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں کرناچاہئے ۔ 
ہوٹل پر کام کرنے والے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ یہاں انہیں کافی محنت کر نا پڑتی ہے ۔ مکہ سے سامان یہاں پہنچانے کا کرایہ بھی کافی زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ حج کے دنوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہ بھی اضافی دی جاتی ہے ۔ 5 دنوں کے لئے ایک کارکن کم از کم 6 ہزار ریال وصول کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ کاریگر کی تنخواہ ڈبل ہوتی ہے ۔ یہ تمام اخراجات کس طرح پورے کئے جاسکتے ہیں ۔ 

شیئر: