سابق صدر عمر البشیر کی پہلی مرتبہ عدالت میں پیشی

30برس تک سوڈان پر حکومت کرنیوالے معزول صدر عمر البشیر کو پہلی مرتبہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ان پر بد عنوانی اور مظاہرین کے قتل جیسے الزامات عائد ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق عدالت قانونی اور عدالتی علوم کے مرکز میں لگائی گئی۔ عمر البشیر سفید رنگ کا روایتی لباس پہنے ہوئے تھے اور عمامہ بھی باندھے ہوئے تھے۔خرطوم کی سوڈانی عدالت نے مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے تک کےلئے ملتوی کردی۔
عمر البشیر کو سخت سیکیورٹی میں کوبر جیل سے لایا گیا۔مالیاتی تحقیقات اور انسداد بدعنوانی کے عہدیدار علاﺅ الدین عبداللہ نے جون میں کہا تھا کہ عمر البشیر پر غیر قانونی طریقے سے تحائف وصول کرنے اور بیرونی شخصیات سے رقم وصول کرنے کے الزامات ہیں۔
عمر البشیر پر مئی میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والوں کے قتل پر سرکاری اہلکاروں کو اکسایا تھا۔ان پر دہشتگردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے بھی الزامات ہیں۔
سوڈانی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل میں عمر البشیر اور ان کے بھائیوں کی خفیہ تجوریوں سے بھاری رقمیں ملی ہیں ۔
عبوری عسکری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اپنے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ عمر البشیر کے گھر سے 3کرنسیوں میں رقم ملی ہے ۔مجموعی رقم 113ملین ڈالر سے زیادہ ہے ۔
عمر البشیر پر مقدمے کی شروعات ایسے ماحول میں ہوئی ہے جبکہ سوڈانی فوج اور انقلابی رہنماﺅں کے درمیان 3سال 3ماہ کے عبوری دور کے معاملات طے پا چکے ہیں ۔
یاد رہے کہ سوڈان میں 19دسمبر2018ءکو احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی۔ مظاہرین نے روٹی کی قیمت 3گنا بڑھ جانے پر ہنگامے کئے تھے ۔ بتدریج یہ احتجاج تحریک کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔6اپریل کو مظاہرین نے خرطوم میں آرمی کمان کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے سیاسی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی پیش کیا تھا۔
11اپریل 2019ءکو فوج نے عوامی دباﺅ میں آکر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور عبوری عسکری کونسل نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

شیئر: