Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپی یونین نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا

پاسدارانِ انقلاب کو سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد مذہبی قیادت کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یورپی یونین نے ایران میں وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران خونریز کریک ڈاؤن کے باعث ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن نے بلاک کے وزرائے خارجہ کے فیصلے کے بعد آن لائن بیان میں کہا کہ ’یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جو نظام اپنے ہی عوام کے احتجاج کو خون میں ڈبو دے، اسے واقعی دہشت گرد ہی کہا جاتا ہے۔
اگرچہ اس اقدام کو بڑی حد تک علامتی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ’تباہ کن نتائج‘ ہوں گے۔
ادھر 27 رکنی یورپی بلاک نے جبر و تشدد کے الزامات کے تحت ایران کے 21 سرکاری اداروں اور حکام پر ویزا پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ ان میں ایران کے وزیر داخلہ، پراسیکیوٹر جنرل اور آئی آر جی سی کے علاقائی کمانڈر شامل ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے، تاہم ان کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکار یا ’شرپسندوں‘ کے تشدد کا نشانہ بننے والے عام شہری تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ، ممکنہ طور پر ہزاروں تک ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو براہِ راست سکیورٹی فورسز، بشمول پاسدارانِ انقلاب، نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

فرانس اور اٹلی کی پالیسی میں تبدیلی

پاسدارانِ انقلاب ایران کی فوج کا نظریاتی بازو ہے، جسے سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد مذہبی قیادت کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ فورس ایرانی معیشت کے متعدد شعبوں، خصوصاً اہم سٹریٹجک سیکٹرز میں کمپنیوں کی مالک یا نگران ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجا کالاس نے جمعرات کو کہا کہ ’اندازہ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کو فہرست میں شامل کرنے کے باوجود سفارتی چینلز کھلے رہیں گے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

یورپی یونین کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب فرانس نے بدھ کو اس کی حمایت کا اعلان کیا، جو اس سے قبل اٹلی کی پالیسی میں اسی نوعیت کی تبدیلی کے بعد ہوا۔
ایران کے سخت ترین مخالف اسرائیل نے اس فیصلے کو’تاریخی‘ قرار دیا۔ یہ اقدام امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے کی گئی اسی نوعیت کی درجہ بندی کے مطابق ہے۔
پیرس کو طویل عرصے تک اس معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار سمجھا جاتا رہا، جس کی وجہ ایران میں زیرِحراست یورپی شہریوں پر ممکنہ اثرات اور سفارتی روابط برقرار رکھنے کی خواہش تھی۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے برسلز پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کئے گئے جرائم پر کوئی استثنا نہیں ہو سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ ایرانی حکام کے لیے فرانس کی جانب سے اپیل بھی ہے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں قید کیے گئے قیدیوں کو رہا کریں، سزائے موت کا سلسلہ ختم کریں جو ایران کی جدید تاریخ کے بدترین جبر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

ارسولا فان ڈیر لیئن نے بلاک کے وزرائے خارجہ کے فیصلے کے بعد آن لائن بیان میں کہا کہ ’یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یورپی یونین اس سے قبل بھی ایران میں سابقہ احتجاجی تحریکوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور یوکرین جنگ میں روس کی حمایت پر سینکڑوں ایرانی حکام اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب بحیثیت ادارہ اور اس کے اعلیٰ کمانڈر پہلے ہی یورپی یونین کی پابندیوں کی زد میں ہیں، جس کے باعث انہیں دہشت گرد فہرست میں شامل کیے جانے کا عملی اثر محدود رہنے کی توقع ہے۔

 

شیئر: