Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: ایمبولینس نہ پہنچی، مدھیہ پردیش میں خاتون نے سڑک کنارے بچے کو جنم دیا

’اطلاع ملنے پر ہسپتال کا عملہ سڑک پر پہنچا اور پھر خاتون کو ہسپتال میں داخل کرایا‘ (فائل فوٹو: این ڈی ٹی وی)
انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشہ میں ایک حاملہ خاتون نے سڑک کے کنارے ٹارچ کی روشنی میں بچے کو جنم دیا جس کے بعد ریاست کے نظامِ صحت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق رات کی تاریکی میں ایک کُھلی سڑک پر ٹارچ کی روشنی میں ترپال کے ذریعے عارضی پردے کا انتظام کیا گیا اور اس دوران خاتون نے بچے کو جنم دیا۔
اہل خانہ کے مطابق رات قریباً تین بجے خاتون کو شدید دردِ زہ شروع ہوا، جس کے بعد ایمبولینس سروس 108 کو متعدد بار فون اور قریباً تین گھنٹے تک ایمبولینس کا انتظار کیا گیا۔‘
تین گھنٹے تک جب ایمبولینس نہ پہنچی تو خاتون کی حالت بگڑنے پر اہل خانہ نے اُسے پیدل ہی ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا۔
تاہم راستے میں ہی خاتون کا دردِ زہ اس قدر شدید ہو گیا کہ اسے سڑک کنارے ہی بچے کو جنم دینا پڑا۔ اس موقعے پر مقامی افراد نے روشنی کے لیے ٹارچ اور وقتی پردے کے لیے ترپال کا استعمال کیا۔
اطلاعات کے مطابق ماں اور نومولود نے سرد رات میں دو سے تین گھنٹے سڑک پر ہی گزارے اور اُس کے بعد ہسپتال کے عملے کی جانب سے انہیں امداد پہنچائی گئی۔
خاتون نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں رات بھر شدید تکلیف میں تھی اور ایمبولینس منگوانے کے لیے فون بھی کیا لیکن طبی عملہ مدد کو نہیں پہنچا۔ رات کو اس قدر سردی تھی کہ بچے کی پیدائش کے وقت میرے اہل خانہ خوف زدہ ہو گئے تھے۔
بعدازاں محکمہ صحت کے افسران نے تسلیم کیا کہ خاتون کے اہلِ خانہ کی جانب سے ایمبولینس کے لیے کال کی گئی تھی۔ 

تین گھنٹے تک ایمبولینس نہ آئی تو اہل خانہ نے خاتون کو پیدل ہی ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا (فائل فوٹو: این ڈی ٹی وی)

چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر رمہیت کمار نے بتایا کہ ’خاتون کا نام سنجنا اور اُن کے شوہر کا نام سنجے سہاریہ ہے، وہ پاتھری اُتھائی کے علاقے میں کرائے کے ایک مکان میں رہتی ہیں۔ انہیں رات دو سے اڑھائی بجے کے درمیان دردِ زہ شروع ہوا۔‘
’خاتون نے 118 اور 108 دونوں نمبروں پر رابطہ کیا تھا اور کال سینٹر نے فالو اپ کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، تاہم مبینہ طور پر موبائل فون کی بیٹری ختم ہونے کے باعث مزید رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔‘
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر کے مطابق ’ایمبولینس نہ پہنچنے پر خاتون اور اُس کا شوہر پیدل ہی ہسپتال کی جانب روانہ ہوئے اور ہسپتال سے قریباً 500 سے 600 میٹر کے فاصلے پر بچے کی پیدائش ہوئی۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’اطلاع ملنے پر ہسپتال کا عملہ موقعے پر پہنچ گیا اور پھر خاتون کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔‘
اس واقعے کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق ’ماں اور بچے، دونوں کی حالت بہتر ہے۔‘

 

 

شیئر: