امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
جمعرات 29 جنوری 2026 6:24
صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ جنگی بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مذاکرات سے متعلق امریکہ سے کوئی درخواست نہیں کی گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے انہوں نے حالیہ دنوں کے دوران نہ تو امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف سے رابطہ کیا اور نہ ہی مذاکرات کی درخواست کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ بحری جنگی بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے اور امید ظاہر کی تھی کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر تیار ہو جائے گا۔
ایران میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے بعد امریکہ نے خلیج میں اضافی فوجی ذرائع تعینات کیے۔
احتجاج کے خلاف ایرانی حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا جس کو 1979 کے انقلاب کے بعد مہلک ترین کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی نے سرکاری میڈیا پر بتایا کہ ’حالیہ دنوں میں سٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکہ سے مذاکرات کے لیے کوئی درخواست کی گئی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مختلف ثالث اس وقت مشاورت کر رہے ہیں اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ہمارا مؤقف واضح ہے کہ دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، مذاکرات صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب دھمکیاں اور ضرورت سے زیادہ مطالبات نہ ہوں۔‘
سعودی عرب کے ولی عہد شہزاہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے منگل کے روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بتایا تھا کہ تہران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے۔