Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 30 ہلاک

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع شیخ رضوان پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے سنیچر کو غزہ میں گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران شدید فضائی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مقامی محکمہ صحت کے مطابق کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملے حماس کے زیرِانتظام ایک پولیس سٹیشن، رہائشی اپارٹمنٹس اور بے گھر فلسطینیوں کے لیے قائم خیمہ بستیوں پر کیے گئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگرچہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس کے درمیان جنگ بندی طے پا چکی تھی، اس کے باوجود اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع شیخ رضوان پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا۔ طبی عملے اور پولیس کے مطابق اس حملے میں 14 پولیس اہلکار اور زیرِحراست افراد مارے گئے۔
حماس کے زیرِانتظام غزہ پولیس کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر مزید ممکنہ متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ایک اور فضائی حملے میں غزہ شہر کے ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں الشفا ہسپتال کے حکام کے مطابق تین بچے اور دو خواتین ہلاک ہوئے۔ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں قائم ایک خیمہ بستی پر ہونے والے حملے میں مزید سات افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج سے تعلق رکھنے والے ایک سورس نے بتایا کہ یہ حملے جمعے کے روز پیش آنے والے ایک واقعے کے جواب میں کیے گئے، جس میں اسرائیلی فوج نے رفح کے علاقے میں ایک سرنگ سے نکلتے ہوئے آٹھ مسلح افراد کی نشاندہی کی۔ رفح جنوبی غزہ کا وہ علاقہ ہے جہاں اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیلی فوج اس وقت تعینات ہے۔
فوج کے مطابق ان میں سے تین مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ چوتھے شخص کو، جسے اسرائیلی فوج نے علاقے میں حماس کا اہم کمانڈر قرار دیا، گرفتار کر لیا گیا۔
حماس نے اس واقعے پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

 

شیئر: