دیواروں پر نقش و نگار: خواتین کا دم توڑتا فن

کچھ  گھروں پر تو اتنے خوبصورت نقش نگاری ہوتی ہے کہ لگتا ہے یہ کسی ماہر مصور نے بنائے ہیں۔
مٹی کے گارے اور پتھروں سے بنے گھروں کی کچی دیواروں پر نقش و نگار کرنا خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے دیہاتوں کی پرانی روایت ہے۔
1586 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ پہاڑی علاقہ تقریبا آٹھ لاکھ نفوس کا مسکن ہے۔ 
ان کے گھرسادہ اور کچے ہیں، لیکن ان کی مٹی سے لیپ ہوئی دیواروں پر بنے نقش و نگار دور سے ہی دیکھنے والے کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
یہ نقش و نگار شانگلہ کی خواتین کا ہنر ہے جو گھر کے دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ دیواروں اور چھتوں پر یہ بیل بوٹے بنانے میں بھی بڑی نفاست رکھتی ہیں۔
کچھ  گھروں پر تو اتنے خوبصورت نقش نگاری ہوتی ہے کہ لگتا ہے یہ کسی ماہر مصور نے بنائے ہیں۔

سیمنٹ اور اینٹوں سے بننے والے مکانات نے شانگلہ کی اس ثقافت پر کاری وار کیا ہے

لیکن کیا کسی کو یقین آئے گا کہ یہ شاہکار تخلیق کرنے والی خواتین مصوری تو دور کی بات، زیور تعلیم سے بھی آراستہ نہیں ہے۔   
شانگلہ کی تحصیل الپوری کے گاؤں ’باسی‘ سے تعلق رکھنے والے شاہد اللہ نے ’اردو نیوز‘  کو بتایا کہ اگرچہ علاقے کی زیادہ تر خواتین سادہ اور غیر تعلیم یافتہ ہیں لیکن دیواروں اور چھتوں پر بننے والے یہ نقوش ان کی اپنی ذہنی تخلیق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیواروں پر نقش و نگار بنانے کے علاوہ اکثر خواتین کپڑوں پر رنگ برنگی کڑھائی کرکے بھی کمروں اور برآمدوں کو سجاتی ہیں۔ 
علاقے کی ایک خاتون فاسودہ بی بی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’دیواروں پر نقش و نگاری کا یہ فن صدیوں سے علاقے کی بڑی عمر کی خواتین سے چھوٹی لڑکیوں میں منتقل ہوتا آ رہا ہے، جس کا مقصد گھروں کو خوبصورت بنانا اور علاقے کے بارے میں اچھا اور محبت آمیز تاثر دینا ہے۔‘

خواتین کپڑوں پر رنگ برنگی کڑھائی کرکے بھی کمروں اور برآمدوں کو سجاتی ہیں۔

وقت کی تبدیلی اورجدیدیت کے نت نئے طریقوں نے جہاں نئی طرزتعمیراورآرائش کو فروغ دیا ہے وہاں دیواروں پر نقش و نگاری کی اہمیت بھی اب کم ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نوعمرلڑکیوں میں یہ ہنر بھی کم ہو رہا ہے۔
 شانگلہ کے قصبے ’پورن‘ کے رہائشی سہیل خان کے مطابق اینٹوں اور سیمنٹ سے بننے والے زیادہ تر نئے مکانات ان نقوش سے خالی ہیں۔ ’یہ نقش و نگار اب دورافتادہ دیہات میں ہی نظرآتے ہیں۔‘

دیواروں پر نقش و نگاری کی اہمیت بھی اب کم ہو رہی ہے

ماچاڑ گاؤں کے گل ذادہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ سیمنٹ اور اینٹوں سے بننے والے مکانات نے شانگلہ کی اس ثقافت پر کاری وار کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سیمنٹ اور اینٹوں کے مکانات آج کی خواتین میں پہلے کی نسبت نقش و نگار کا ذوق کم کررہے ہیں۔‘
گاوں بیلے بابا کی بزرگ خاتون جمالہ بیگم  نے بتایا کہ ’دیواروں پر گل کاری ہمارے بزرگوں کے دور سے چلی آرہی ہے لیکن آج کی لڑکیاں ان میں دلچسپی نہیں لیتیں۔‘ 

’اب تو نئی نسل کپڑوں پر ہاتھوں سے کڑھائی بھی نہیں کرتیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم عید یا دیگرخوشی کے موقع پرانہیں دیواروں کی سجاوٹ کا کہتے ہیں تو اکثراس کو سن صفر کے زمانے کا کہہ کر جان چھڑا لیتی ہیں۔‘ 
جمالہ بیگم کے مطابق دیواروں پر پھول بنانے کا کام تو ایک طرف، اب تو نئی نسل کپڑوں پر ہاتھوں سے کڑھائی بھی نہیں کرتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم تو بوڑھے ہوگئے ہیں اب بدن میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ یہ مشقت والا کام کرسکیں۔‘

شیئر: