وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اپنے دورہ لاہور کے دوران پنجاب اسمبلی پہنچے ہیں جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔
جمعے کی رات کو جب وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پنجاب اسمبلی پہنچے تو پہلے تو ان کے ایک گارڈ کی پنجاب اسمبلی کے گارڈ سے دھکم پیل ہوئی۔ اور بعد میں ان کے گارڈز نے صحافیوں کو دھکے دیے اور تشدد کیا۔
سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ کو لاہور کیسا لگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’لگتا ہے آپ کو واٹس ایپ سے سوال بھیجا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کے گارڈز نے ثابت کیا کہ وہ تہذیب سے عاری ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پہلے ہی کہا تھا کہ ان کا ایجنڈا صرف انتشار پھیلانا ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورۂ لاہور کے پیشِ نظر پنجاب حکومت کی ہدایت پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
جمعے کو لاہور پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکے لگا دیے جبکہ سابقہ ریکارڈ یافتہ افراد کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کر دی گئیں۔
پنجاب حکومت نے پولیس کو وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم سہیل آفریدی کی جانب سے تاحال اپنا حتمی پروگرام لاہور پولیس کو فراہم نہیں کیا گیا۔ لاہور پولیس نے وزیراعلٰی کی سکیورٹی ٹیم سے رابطہ بھی قائم کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق شرپسندی، احتجاج اور توڑ پھوڑ میں ملوث سابقہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کی فہرستیں مرتب کی گئیں، جن کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں سے 500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان افراد کی تفصیلات سیف سٹی اتھارٹی کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں، جہاں فیشل ریکگنیشن کیمروں کی مدد سے مزید نشاندہی کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ممکنہ آمد کے پیش نظر ٹھوکر نیاز بیگ، راوی ٹول پلازہ اور دیگر داخلی راستوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی اور اینٹی رائٹ فورس کے اہلکار بھی موقع پر موجود رہے جبکہ پریزن وین بھی تعینات کر دی گئی۔ بعض مقامات پر وزیراعلٰی کی گاڑی کو گزار کر باقی قافلے کو روکنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ ’پنجاب میں ان کے قافلے کو مختلف مقامات پر روکا گیا، چکری، بھیرہ اور لاہور کے انٹرچینجز پر کارکنوں کو ہراساں کیا گیا اور قیام و طعام کے راستے بند کیے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی صورت حال جمہوری رویوں کے منافی ہے اور اس سے دو صوبوں کے درمیان نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔‘
وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور بانی پی ٹی آئی قومی یکجہتی کی علامت ہیں، جبکہ عوام موجودہ حکمرانوں کی مبینہ کرپشن سے باخبر ہو چکے ہیں۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ’عدالتی احکامات کے باوجود انہیں ملاقاتوں سے روکا گیا، جو عدالتی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔‘
بعد ازاں وزیراعلٰی خیبر پختونخوا لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر پہنچے جہاں مقامی قیادت سے ملاقاتیں کی گئیں۔ شیڈول کے مطابق ان کے دورے کے دوران پنجاب اسمبلی، لاہور ہائی کورٹ، مختلف تنظیمی اجلاسوں اور پارٹی کارکنوں سے ملاقاتوں کا بھی پروگرام شامل ہے، جبکہ رات کو پریس بریفنگ اور کارکنوں سے خطاب متوقع ہے۔
’جو پنجاب میں دیکھیں اسے خیبر پختونخوا میں جا کر لاگو کریں‘
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کی لاہور آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کو لاہور آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ پچھلی بار علی امین گنڈا پور لاہور آئے تھے تو لاہور کی بتیاں دکھائی تھیں۔
’وزیراعلٰی بتیاں دیکھیں، روٹی کھائیں، تصویریں کھینچیں اور جو کچھ پنجاب میں دیکھیں اسے خیبر پختونخوا میں جا کر لاگو کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو دورہ کرنے کے دوران روٹی کھانے اور تفریح کرنے کی مکمل اجازت ہے۔ یہ سیاسی تفریح کریں یا معلوماتی ان کو مکمل اجازت ہو گی۔ لیکن انہیں بدزبانی، فساد کرنے یا انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں ہو گی۔












