Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈونلڈ ٹرمپ کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے انکار، ’آخر یہ ہے کیا؟‘

صومالی لینڈ کو امید ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو بطور ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فی الحال ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی انتظامیہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا جواب مختصر تھا ’نہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں اس معاملے پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ پلٹ کر ’کیا واقعی کوئی جانتا بھی ہے کہ صومالی لینڈ کیا ہے؟‘
واضح رہے کہ جمعے کو امریکہ کا اہم اتحادی ملک اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا جبکہ سعودی عرب نے اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’اسرائیل فوری طور پر صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔‘
انہوں نے ایک بیان میں صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبدالله کو مبارک باد دی، ان کی قیادت کی تعریف کی اور انہیں اسرائیل کے دورے کی دعوت دی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اعلان ’ابراہیم معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو صدر ٹرمپ کے انیشیٹو پر دستخط کیے گئے تھے۔‘
سنہ 2020 میں طے پانے والے یہ معاہدے صدر ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہوئے تھے، جن کے تحت اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ بعد میں دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوئے۔
اسرائیلی بیان کے مطابق نیتن یاہو، وزیرِ خارجہ جدعون سار اور صومالی لینڈ کے صدر نے باہمی اعتراف سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
صدر عبدالرحمان محمد عبدالله نے ایک بیان میں کہا کہ صومالی لینڈ ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو گا، جسے انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک قدم قرار دیا۔
دوسری جانب مصر نے کہا کہ وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے جمعے کو صومالیہ، ترکیہ اور جبوتی کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں اسرائیل کے اعلان کے بعد شاخ افریقہ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کو ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا گیا۔
مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی، صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور خبردار کیا کہ علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنا بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
صومالی لینڈ سنہ 1991 سے، جب صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوا تھا، مؤثر خودمختاری اور نسبتاً امن و استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے، تاہم اس علیحدہ خطے کو اب تک کسی اور ملک کی جانب سے باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
گذشتہ برسوں کے دوران صومالیہ نے بین الاقوامی برادری کو کسی بھی ملک کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے خلاف متحرک کیا ہے۔
صومالی لینڈ کو امید ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے، جس سے اس کی سفارتی حیثیت مضبوط اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔

 

شیئر: