ترکی جانے والے سعودی سیاحوں کی تعداد میں کمی کیوں؟

سعودی عرب سے سیاحوں میں 16.96 فیصد کمی واقع ہو ئی ہے
ترکی کی وزارت ثقافت و سیاحت کا کہنا ہے کہ رواں برس سعودی عرب سے سیاحوں میں 16.96 فیصد کمی واقع ہو ئی ہے جبکہ گزشتہ ماہ جولائی میں کمی کا تناسب گزشتہ برس کے مقابلے میں 20.11 فیصد رہا۔
نیوز ویب سائٹ سبق کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں سعودی سیاحوں کو لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے باعث سعودی عرب سے وہاں سیر و تفریح کےلئے جانے والوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
ترکی وزارت ثقافت و سیاحت کی ویب سائٹ پر جاری اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس سات ماہ کے دوران ترکی آنے والے سعودی سیاحوں کی تعداد چار لاکھ 45 ہزار 875 تھی۔ 
رواں برس 2019 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران  تین لاکھ 70 ہزار 265 سیاح سعودی عرب سے ترکی آئے۔ اعداد وشمار میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ برس جولائی میں ترکی آنے والے سعودی سیاحوں کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار 331 تھی۔ اس کے مقابلے میں رواں برس جولائی میں سعودی سیاحوں کی تعداد ایک لاکھ 35 ہزار 273 رہی جس سے واضح طور پر فرق دیکھا جاسکتا ہے۔

مشرق وسطی کے سیاحوں میں سعودی سیاحوں کی شرح 70 فیصد ہے۔

سبق نیوز نے رپورٹ میں دعوی کیا کہ ترکی جانے والے سعودی سیاحوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں لوٹ مار کے علاوہ فائرنگ اور اغوا کی وارداتیں شامل تھیں۔
ترکی میں سعودی سفارتخانے نے مقامی حکام کو متعدد شکایات درج کرائی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ انکے شہریوں کو مختلف جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سعودی شہریوں کے پاسپورٹس اور رقوم کی چوری کے علاوہ انہیں لوٹ مار کی وارداتوں کا سامنا رہا۔ 
واضح رہے کہ ترکی میں غیر ملکی سیاحوں کی فہرست میں سعودی شہری چوتھے نمبر پر ہوا کرتے تھے۔ مشرق وسطی کے سیاحوں میں سعودی سیاحوں کی شرح 70 فیصد ہے۔ یہ 20 ارب ڈالر سالانہ سیاحت پر خرچ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ متعدد سیاحتی ممالک سعودی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
 

شیئر: