انڈیا: بزرگ خواتین کے گلے سے چین نوچنے والا شخص جُوتوں کی مدد سے کیسے پکڑا گیا؟
انڈیا: بزرگ خواتین کے گلے سے چین نوچنے والا شخص جُوتوں کی مدد سے کیسے پکڑا گیا؟
ہفتہ 7 فروری 2026 21:51
موہن اکیلا ہی یہ کام کرتا تھا اور زیادہ تر بزرگ خواتین کو نشانہ بناتا تھا (فائل فوٹو: پِنٹرسٹ)
انڈیا کے شہر ممبئی اور نوی ممبئی میں حالیہ دنوں میں چین سنیچنگ کے مسلسل واقعات نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔
ہر واردات ایک ہی انداز میں ہوتی، چہرے پر ہیلمٹ پہنے موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص تیزی سے آتا اور چند لمحوں میں کسی بزرگ خاتون کے گلے سے چین چھین کر غائب ہو جاتا۔ پولیس کے لیے یہ کیس ایک معمہ بنتا جا رہا تھا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق آخرکار پولیس نے 49 سال کے موہن کوکاٹے کو گرفتار کر لیا جو ممبئی کے سیون علاقے کا رہائشی تھا۔
موہن بظاہر ایک عام، پڑھا لکھا اور خوش حال خاندان سے تعلق رکھتا تھا مگر اس کی زندگی کا ایک تاریک پہلو اسے جرائم کی دنیا میں واپس لے آیا۔
موہن ہر واردات کے بعد اپنے کپڑے بدل لیتا تھا تاکہ پہچانا نہ جا سکے لیکن ایک عادت اس کی کمزوری بن گئی۔ وہ ہر بار وہی جوتے پہنتا تھا۔
پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں سے لگ بھگ 80 سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ چہرہ کہیں بھی واضح نظر نہیں آیا مگر جُوتے ہر کیمرے میں ایک جیسے تھے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ موہن نے جرائم کے لیے ایک چوری شدہ موٹر سائیکل استعمال کی۔ وہ موٹرسائیکل کو نیرول سے چُرا کر واردات کے بعد تین ہاتھ ناکہ کے قریب چھوڑ دیتا اور پیدل گھر واپس چلا جاتا تاکہ شک نہ ہو۔
کیس اس وقت فیصلہ کُن موڑ پر آیا جب 25 جنوری کو سیون میں ایک چین سنیچنگ کی واردات رپورٹ ہوئی۔
متاثرہ خاتون نے ابتدا میں شکایت درج کرانے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کی چین نقلی تھی مگر پولیس کے اصرار پر ایف آئی آر درج ہوئی۔ یہی رپورٹ پولیس کے لیے سنہری موقع ثابت ہوئی۔
سی سی ٹی وی شواہد کو جوڑتے ہوئے پولیس نے تین ہاتھ ناکہ کے قریب گھات لگائی اور جیسے ہی موہن موٹرسائیکل لینے آیا، اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے کئی وارداتوں کا اعتراف کر لیا۔
مزید انکشاف ہوا کہ موہن کبھی اپنے والد کے ساتھ باغبانی کا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا خاندان مالی طور پر مستحکم تھا۔ بہن دبئی میں مقیم، بھائی امریکہ میں، ایک بیٹا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور دوسرا انجینیئر مگر آن لائن جُوئے اور کیسینو کی لت نے اسے بھاری قرض تلے دبا دیا۔
پولیس کے مطابق صرف جنوری میں موہن کے خلاف پانچ ایف آئی آرز درج ہوئیں (فائل فوٹو: انڈین ٹی وی)
موہن اس سے پہلے بھی 2011 میں جیل جا چکا تھا اور رہائی کے بعد اس نے خاندان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سُدھر جائے گا۔
کچھ سال وہ واقعی جرائم سے دُور رہا لیکن بڑھتے ہوئے نقصانات اور اخراجات نے اسے دوبارہ جرم کی راہ پر ڈال دیا۔
پولیس کے مطابق صرف جنوری میں اس کے خلاف پانچ ایف آئی آرز درج ہوئیں جبکہ ملزم کا دعویٰ ہے کہ اس پر پہلے ہی ممبئی میں 20 سے زائد مقدمات درج ہیں جن کی تصدیق جاری ہے۔ وہ اکیلا ہی کام کرتا تھا اور زیادہ تر بزرگ خواتین کو نشانہ بناتا تھا۔
وہ سمجھتا تھا کہ کپڑے بدل لینے سے وہ بچ جائے گا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایک جوڑی جُوتے اس کی پوری کہانی بے نقاب کر دیں گے۔