ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات مسترد

گذشتہ کئی برسوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں (فوٹو اے ایف پی)
صدر حسن روحانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔
منگل کو ایرانی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ اصولی طور پر وہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔
حسن روحانی نے مزید کہا کہ اگر امریکہ تمام معاشی پابندیاں ختم کر دے تو پھرعالمی طاقتوں کی موجودگی میں امریکہ کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے۔
ایرانی صدر جرمنی، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کا حوالہ دے رہے تھے جو 2015 میں امریکہ کے ساتھ کیے جانے بوالے جوہری معاہدے میں شامل تھے۔
’شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔ ہم نے متعدد بار کہا ہے اور ہم دہراتے ہیں، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔‘
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران پہلے ہی یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کر چکا ہے۔ صدر روحانی نے منگل کو عالمی طاقتوں کو متنبہ کیا کہ اگر جوہری معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ایران بھی معاہدہ میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے کا پابند نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے ’تیسرے اقدام‘ کا اعلان جلد کریں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 جون کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازعہ حل کرنے میں ان کو کوئی جلدی نہیں (فوٹو اے ایف پی)

رواں سال 7 جولائی کو ایران نے جوہری معاہدے میں مقرر کی گئی حد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کہا تھا کہ ایران ’کچھ ہی گھنٹوں میں تاریخی معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد کی حد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔‘
اس سے قبل ایران نے مئی میں یورینیم کی افزودگی میں اضافہ شروع کیا تھا، جو تیل کے کارخانوں کے علاوہ جوہری ہتھیار بنانے کے کام بھی آسکتی ہے۔
گذشتہ سال مئی سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا اور ایران پر مزید معاشی پابندیاں لگا دی تھیں۔   
رواں سال جون میں ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی تھی لیکن پھر ارادہ مسترد کر دیا۔
فرانسیسی صدر میکرون دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ میں کمی لانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور حالیہ ’جی سیون‘ کانفرنس میں بھی صدر روحانی اور ٹرمپ کی ملاقات کا عندیہ تھا۔

شیئر: