Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ سے تجارتی معاہدہ: انڈین ریفائنریز روسی تیل خریدنے  سے گریز کرنے لگے

انڈین آئل ریفائنریز روسی تیل کی خریداری سے گریز کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ طویل عرصے تک ایسی ڈیلز سے دور رہیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق  ریفائننگ اور تجارتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام نئی دہلی کو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
جمعے کے روز امریکہ اور انڈیا ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کے مزید قریب آ گئے، جب دونوں ممالک نے ایک فریم ورک کا اعلان کیا جس کے تحت مارچ تک معاہدہ طے کرنے کی امید ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ٹیرف میں کمی اور معاشی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ایک ٹریڈر، جس نے ریفائنرز سے رابطہ کیا، کے مطابق  انڈین آئل، بھارت پیٹرولیم  اور ریلائنس انڈسٹریز مارچ اور اپریل میں لوڈ ہونے والے روسی تیل کے لیے تاجروں کی پیشکشیں قبول نہیں کر رہے۔
تاہم ریفائننگ ذرائع کے مطابق ان کمپنیوں نے مارچ کے لیے روسی تیل کی کچھ ترسیلات پہلے ہی طے کر رکھی تھیں۔ دیگر بیشتر انڈین ریفائنریز بھی روسی خام تیل کی خریداری روک چکے ہیں۔
ان تینوں ریفائنریز اور وزارتِ تیل نے تبصرے کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ہفتے کے روز وزیرِ تجارت نے روسی تیل سے متعلق سوالات وزارتِ خارجہ کو بھیج دیے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ عالمی منڈی کی صورتحال اور بدلتی ہوئی بین الاقوامی حرکیات کے مطابق توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا ہماری حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے، تاکہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی توانائی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
اگرچہ امریکہ اور انڈیا کے تجارتی فریم ورک سے متعلق مشترکہ بیان میں روسی تیل کا ذکر نہیں تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی اشیا پر عائد 25 فیصد ٹیرف واپس لے لیا۔ یہ ٹیرف روسی تیل کی خریداری کے باعث لگایا گیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق نئی دہلی نے روسی تیل کی ’براہِ راست یا بالواسطہ‘ درآمد روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انڈیا نے تاحال روسی تیل کی درآمد مکمل طور پر روکنے کے کسی منصوبے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
2022  میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد انڈیا رعایتی روسی بحری خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا تھا، جس پر مغربی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ان ممالک نے روس کے توانائی کے شعبے پر پابندیاں عائد کیں تاکہ ماسکو کی آمدن کم کی جا سکے اور جنگ کے لیے مالی وسائل محدود ہوں۔
انڈیا کی روسی تیل کی درآمدات 2025 کی سطح کے مقابلے میں بہت کم
انڈیا کا ایک مستقل خریدار روس کی حمایت یافتہ نجی ریفائنری نایارا ہے، جو اپنی 4 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش والی ریفائنری کے لیے مکمل طور پر روسی تیل پر انحصار کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق نایارا کو ممکنہ طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، کیونکہ یورپی یونین کی جانب سے جولائی میں پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد دیگر خام تیل فراہم کرنے والے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نایارا اپریل میں بھی روسی خام تیل درآمد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، کیونکہ اس دوران ریفائنری ایک ماہ کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بند رہے گی۔
نایارا نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا جواب نہیں دیا۔
ذرائع کے مطابق انڈین ریفائنریز روسی تیل کی خریداری کا فیصلہ صرف اسی صورت میں تبدیل کریں گے اگر حکومت کی جانب سے ہدایت دی گئی۔
ٹرمپ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر انڈیا نے دوبارہ روس سے تیل کی خریداری شروع کی تو امریکی حکام صورتحال کی نگرانی کریں گے اور ٹیرف دوبارہ نافذ کرنے کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
ذرائع نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ انڈیا مارچ تک روسی تیل کی درآمدات ایک ملین بیرل یومیہ سے کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور بعد ازاں یہ مقدار 5 سے 6 لاکھ بیرل یومیہ تک لائی جا سکتی ہے، جبکہ گزشتہ سال اوسطاً درآمدات 17 لاکھ بیرل یومیہ تھیں۔ 2025 کے وسط میں انڈیا کی روسی تیل کی درآمدات 20 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی تھیں۔
تجارتی اور صنعتی ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے تیسرے بڑے تیل صارف اور درآمد کنندہ انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات دسمبر میں گزشتہ دو برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔
روسی تیل کی خریداری میں کمی کے ساتھ انڈیا ریفائنرز مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ممالک سے زیادہ تیل خرید رہے ہیں۔

شیئر: