سرینگر: سکول بند مگر پڑھائی تو کرنی ہے

5 اگست کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے پوری وادی میں ذرائع نقل و حرکت اور مواصلاتی نظام بند ہیں۔ وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو سکولز اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگوں نے گھروں میں پرائیوٹ ٹیوشن سینٹرز کھول رکھے ہیں جہاں پرائیویٹ ٹیچرز پڑوس کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ مزید دیکھیں اس ڈیجیٹل رپورٹ میں۔

شیئر: