مرغے نے ’اذان‘ دینے کا کیس جیت لیا

فرانس کی ایک عدالت نے اس مرغے کے حق میں فیصلہ سنایا ہے جس کے خلاف ہمسایوں نے یہ کیس کر رکھا تھا کہ صبح سویرے مرغے کی بانگ (اذان) سے ان کی نیند خراب ہوتی ہے۔
جمعرات کو سنائے گئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موریس نامی اس مرغے کو صبح سویرے بانگ دینے سے روکا نہیں جا سکتا۔
فرانسیسی میڈیا کی جانب سے اس کیس کو دیہی اور شہری زندگی کے درمیان جنگ کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا تھا۔
خبر رساں ادارے رؤئٹرز سے بات کرتے ہوئے مرغے کی مالکن کورین فیسو نے بتایا کہ ’عدالت نے ہمسایوں کی جانب سے مرغے کو خاموش کروانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

مرغے کے خلاف بانگ دینے کی شکایت ایک معمر جوڑے نے کی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ ’آج مرغے نے پورے فرانس کے لیے جنگ جیت لی ہے۔‘
مرغے کی عمر چار برس ہے اور یہ اپنے مالکان کے ساتھ فرانس میں بحر اوقیانوس کے ایک چھوٹے ساحلی جزیرے ’اولیراں‘ پر رہتا ہے۔
مرغے کے خلاف عدالت میں یہ شکایت ایک معمر جوڑے نے کی تھی جنہوں نے اولیراں جزیرے پر چھٹیاں منانے کے لیے گھر خرید رکھا تھا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مقدمے کی سماعت رواں سال چار جولائی کو شروع ہوئی تھی اور وکیل دفاع ژولیاں پاپینو نے عدالت کو بتایا تھا کہ 40 پڑوسیوں میں سے صرف دو افراد کو ہی مرغے کی بانگ سے شکایت ہے۔
مقدمہ دائر ہونے کے بعد فرانس میں دیہی اور شہری زندگی میں فرق پر بحث شروع ہوئی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ چھٹیاں منانے کے لیے دیہات میں گھر لینے والے شہری لوگ دیہی زندگی کی حقیقتوں مثلاً جانوروں کی آواز اور حشرات وغیرہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتے لہذا انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مرغے کی عمر چار سال ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

فرانس میں اس سے قبل بھی گائے کے بولنے اور چرچ کی گھنٹی کی آواز کے خلاف مقدمات دائر ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی اتنی پذئرائی نہیں ملی جتنی کہ مرغے کے کیس کو ملی ہے۔
خیال رہے کہ کیس دائر ہونے کے بعد کئی امریکی شہریوں نے بھی مرغے کے حق میں خط لکھے تھے۔

شیئر: