سعودی عرب میں شرح ناخواندگی کتنی؟

ناخواندگی کی شرح کم ہوکر 5.6فیصد رہ گئی۔
 جدید تعلیم کے طریقے اپنانے اور تعلیم بالغاں کے پروگرام کے نفاذ سے سعودی عرب میں ناخواندگی کی شرح کم ہوکر 5.6فیصد رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار 8ستمبر کو انسداد ناخواندگی کے عالمی دن کے موقع پر جاری کئے گئے ۔
 مکہ اخبار کے مطابق سعودی وزارت تعلیم مملکت بھر میں ناخواندگی کے انسداد کیلئے مختصر مدتی اور طویل مدتی پروگرام چلا رہی ہے۔ 2259 اسکول ناخواندگی کے انسداد میں خصوصی طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں خواتین اور مرد دونوں کیلئے قائم اسکول شامل ہیں۔ ان اسکولوں میں 90ہزار طلباءو طالبات زیر تعلیم ہیں۔

تعلیم بالغاں کے لئے مملکت بھر میں 305کمیونٹی ایجوکیشن سینٹر بھی قائم ہیں۔

سعودی وزارت تعلیم کے تحت تعلیم بالغاں کے لئے مملکت بھر میں 305کمیونٹی ایجوکیشن سینٹر بھی قائم ہیں۔ ان سے 114939طلباءو طالبات فیض یاب ہوئے۔
کمیونٹی ایجوکیشن سینٹر کا مقصد 15 سے 50برس تک کی ان خواتین کو تعلیم دینا ہے جو ثانوی یا اس سے کم درجے کا سرٹیفکیٹ حاصل کئے ہوئے ہوں۔ انہیں لیبر مارکیٹ کا حصہ بنانے کے لئے مختلف ہنر بھی سکھائے جارہے ہیں۔
 سعودی وزارت تعلیم نے متعدد سرکاری اداروںاور این جی اوز کی مدد سے موسم گرما کے دوران انسداد ناخواندگی کے لئے مختلف مقامات پر 94سینٹر قائم کئے۔ یہ سینٹر خاص طور پر ایسے مقامات پر قائم کئے گئے جہاں باقاعدہ تعلیمی کلاس کا انتظام مشکل ہوتا ہے۔ دور دراز مقامات اور آبادی سے دور جھونپڑیوں میں رہنے والوں کیلئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔ ان میں تعلیم کا دورانیہ 2ماہ سے زیادہ نہیں ہوتا۔

تعلیم بالغاں پروگرام کے تحت انگریزی اور چینی زبان کی تعلیم کا بھی بندوبست ہے۔

وزار ت تعلیم کے مطابق تعلیم بالغاں پروگرام کے تحت انگریزی اور چینی زبان کی تعلیم کا بھی بندوبست کیا گیا جس سے 9253 طلباءو طالبات نے استفادہ کیا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب 1374ھ تقریباً 67برس سے انسداد ناخواندگی پروگرام چلا رہا ہے۔ اب سے 67برس قبل سعودی عرب میں ناخواندگی کا تناسب 60فیصد تھا۔ تعلیم بالغاں کا پروگرام 1392ھ یعنی اب سے تقریباً49برس قبل شروع کیا گیا تھا۔
 

شیئر: