Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان کے مختلف شہروں میں حملے: 67 دہشت گرد ہلاک، 10 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے: سکیورٹی ذرائع

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان میں سنیچر کی صبح سے جاری آپریشن میں 67 دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی۔‘
اس سے قبل گذشتہ دو روز کے دوران پنجگور اور شعبان میں 41 دہشت گرد مارے گئے تھے، اس طرح تین دنوں میں مرنے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 108 ہو چکی ہے۔‘
سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا ہے کہ ’دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے 10 جوان شہید ہو گئے۔‘
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’سنیچر کی صبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جن میں کوئٹہ، دالبندین، پسنی اور گوادر کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی بہادر مسلح افواج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔‘
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گرد مسلسل افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردوں نے گوادر میں خضدار کے بلوچ مزدور خاندان کے پانچ افراد کو نشانہ بنایا جن میں ایک خاتون اور تین بچے شامل ہیں۔‘

بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔ 
’گذشتہ دو روز میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ’آج علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی۔ بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جانباز جوانوں نے مل کر دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں بم دھماکے کے مقام کا دورہ کر کے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان کی وزیر اعلیٰ کو واقعے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘
اس سے قبل وزیراعلٰی بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’گزشتہ دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’دہشت گردوں کے بھاری نقصانات کے بعد صوبے کے چند مقامات پر حملے کی کوششیں کی گئیں۔ پولیس اور ایف سی نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا۔‘
دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بہادر سپوتوں نے جان دے کر انڈین سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے بہادر سپوتوں نے بروقت اور موثر کارروائی کرکے 37 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا۔  دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک ملانے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘

کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں دھماکے اور فائرنگ

سنیچر کی صبح کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں نامعلوم عسکریت پسندوں کی جانب سے بیک وقت حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
کوئٹہ کے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ میں مختلف مقامات پر فائرنگ اور بم دھماکوں میں پولیس کے 10 جوان جان سے گئے۔
’ان میں ایک ڈی ایس پی، انسپکٹر، بلوچستان کانسٹیبلری کے سب انسپکٹر اور اے ایس آئی شامل ہیں جبکہ حملوں میں نو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔‘
کوئٹہ میں چار تھانوں سریاب، نیو سریاب، شالکوٹ اور خالق شہید ، موبائل گاڑیوں، پولیس اور ایف سی کے ناکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا- تھانہ نیو سریاب اور خالق شہید تھانے کو شدید نقصان پہنچایا گیا-
پولیس افسر کے مطابق ہزارگنجی میں متعدد بینکوں پر فائرنگ کی گئی اور راکٹ کے گولے بھی داغے گئے۔ مسلح افراد نے کے حملوں کے بعد شہریوں نے ایک تھانے اور بینکوں میں داخل ہوکر وہاں پڑی اشیاء لوٹ لیں۔

سریاب روڈ پر پولیس کی گاڑی پر حملہ

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر پولیس کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور دو اہلکار جان سے گئے۔
​کوئٹہ میں زرغون روڈ پر وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے ریڈ زون کے قریب دھماکہ ہوا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
​کوئٹہ میں ریڈ زون کے ڈی ایس پی اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ خالق شہید اور نیو سریاب تھانوں کو حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔
کوئٹہ کے بولان میڈیکل ہسپتال میں چھ زخمیوں کو لایا گیا جو راکٹ حملے اور فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔
نیو سریاب تھانے اور پولیس ٹریننگ کالج کے اطراف میں بھی شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمان نے موجودہ حالات کے پیشں نظر کوٸٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
اُدھر گوادر کے علاقے پسنی میں عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اُردو نیوز کو بتایا کہ جوابی کارروائی میں کم از کم پانچ حملہ آور مارے گئے۔
گوادر میں لیبر کالونی میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوگئے جس کے بعد پولیس، سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق قلات میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانہ سٹی اور صدر تھانہ کے ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا۔
پولیس تھانے کے قریب ایک لانچر پھٹنے سے دو اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں ڈی ایچ کیو منتقل کیا جا رہا ہے۔
مستونگ، نوشکی، خاران، چاغی کے علاقے دالبندی، قلات، گوادر کے علاقے پسنی، ضلع کیچ کے مختلف علاقوں تربت، تمپ، مند میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سُنی گئی ہیں۔
مستونگ کے نواب غوث بخش ہسپتال میں تین زخمی لائے گئے ہیں جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

سریاب روڈ پر آپریشن، چار دہشتگر مارے گئے: سی ٹی ڈی

بلوچستان میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) نے کوئٹہ میں ایک آپریشن کے دوران چار دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
سنیچر کی صبح سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی نے مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنۂ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے چار انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
 سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔
موقع سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، چار موٹر سائیکلیں، کالعدم تنظیم کے جھنڈے، غیر قانونی لٹریچر اور تخریبی مواد برآمد ہوا۔
بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد شہر میں بڑی تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے، جسے سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں سابق تحصیلدار کا قتل

ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق تحصیلدار عابد یار محمد کو گھر کے اندر فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے۔
ڈی ایس پی تمپ عبدالستار کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے سابق تحصیلدار کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر مسلح افراد نے عابد یار محمد گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

موبائل انٹرنیٹ سروس بند، ٹرین سروس بھی معطل

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے جبکہ کوئٹہ کو کراچی، ڈیرہ غازی خان، سکھر اور تفتان سے ملانے والی اہم شاہراہیں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب سے لاہور کے راستے پشاور جانے والی اور وہاں سے آنے والی جعفر ایکسپریس، کوئٹہ سے چمن جانے اور آنے والی مسافر ٹرین منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ریلوے کنٹرول روم سکھر کے مطابق پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفرایکسپریس کو بلوچستان میں داخل ہونے سے پہلے جیکب آباد میں روک دیا گیا ہے۔

 

شیئر: