Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہزادہ ترکی الفیصل کی مضبوط سعودی امارات تعلقات کی پھر توثیق، ’سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں‘

شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس سے تبدیلی آئے گی: (فوٹو: عرب نیوز)
شاہ فیصل ریسرچ سینٹر اینڈ اسلامک سٹڈیز کے چیئرمین اور امریکہ و برطانیہ میں سعودی عرب کے سابق وزیر شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کے ساتھ سعودی عرب کے ’برادرانہ تعلقات‘ کی توثیق کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی پوسٹوں کے بجائے سعودی اداروں کے سرکاری نیوز سورسز پر بھروسہ کریں۔
عرب نیوز کے مطابق دی فیملی آفس کے اجلاس ’انویسٹنگ از اے سی‘ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ’جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ سعودی حکام نے یو اے ای کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی تصدیق کی جو کہ نہ صرف سیاسی ہیں بلکہ ان کی جڑیں محبت، خاندانی روابط اور مشترکہ تاریخ میں بھی ہیں۔‘
انہوں نے اس موقع پر عرب ایڈیٹر انچیف فیصل جے عباس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سیاسی اختلافات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر شور کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یو اے ای کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹکراؤ نہیں بلکہ اشتراک پر مبنی ہیں اور یہ اصول تمام جی سی سی پر لاگو ہوتا ہے۔‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر جھوٹ اور نفرت سے متعلق مواد پوسٹ کرنے والے صارفین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’رائے میں اختلاف فطری امر ہے یہاں تک کہ یورپی یونین میں بھی پایا جاتا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ سوشل میڈیا صارفین اس معاملے میں نامناسب چیزوں سے گریز کریں گے۔‘

سعودی وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے یو اے ای کے مشیر قومی سلامتی شیخ طحنون بن زاید کا داخلہ روکنے سے متعلق خبروں کی تردید کی تھی (فوٹو: عرب نیوز)

دونوں خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ دسمبر میں اس وقت بڑھا تھا جب امارات نے سعودی بارڈ کے قریب اس کی رضامندی کے بغیر یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی ایف) کو یکطرفہ طور پر سامان فراہم کیا۔
پھر یمن کی قانونی حیثیت کی بحالی کے لیے متحرک اتحاد جس کی قیادت سعودی عرب کرتا ہے، نے اس کو غیرقانونی کھیپ قرار دیتے ہوئے اسے نشانہ بنایا اور ابوظبی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یمن سے اپنا سامان نکالے اور اہلکاروں کو واپس بلائے۔
اس کے کچھ دیر بعد یو اے ای کی وزارت دفاع کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس کی تعمیل کرے گا اور وہ سعودی سلامتی اور استحکام کی حمایت کرتا ہے۔
تاہم دونوں طرف سے سوشل میڈیا پر اس بارے میں تبصرے کرنے والوں کی جنگ جاری رہی اور یہ سوال اٹھائے جانے لگے کہ آیا دونوں دارالحکومتوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کا ارادہ ہے؟
پیر کو وارسا میں بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزاہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ یمن کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ’اختلاف رائے‘ ہونے کے باوجود دونوں کے تعلقات ’انتہائی اہم‘ ہیں۔
پولینڈ کے دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ علاقائی استحکام کے لیے اہم عنصر ہے اس لیے مملکت کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ جی سی سی کے ایک اہم شراکت دار یو اے ای کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات رہیں۔‘
دو روز بعد سعودی عرب کے وزیر اطلاعات سلمان الدوسیری نے سول میڈیا پر کی گئی اس پوسٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ مملکت نے متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید کو ملک میں داخلے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ’شیخ طحنون جب چاہیں مملکت آتے ہیں، انہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں، یہ ان کا اپنا گھر ہے اور یہاں کی قیادت ان کا خاندان ہے۔‘
شیخ طحنون بن زاید ابو ظہبی کے نائب حکمران اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے بھائی ہیں۔

دی فیملی آفس کے افتتاحی پینل نے عالمی سطح پر ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بنایا گیا بورڈ آف پیس تبدیلی لائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سعودی عرب پیس کونسل میں فلسطین کی مسلسل حمایت کرتا ہے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تمام بیانات کا مقصد امریکہ کو باور کرانا ہے کہ امن پسند کے اصولوں پر نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔‘
شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی اسرائیل کو تب تک ’دفاع کا حق‘ نہیں دے سکتا جب یہ ان فلسطینیوں کو بھی نہ ملے جو اس کے زیر عتاب ہیں۔
ان کے مطابق ’سعودی عرب کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن سے قبل فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پچھلے برس نومبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مملکت کا موقف انصاف اور ان اصولوں پر مبنی ہے جن پر سعودی عرب کی بنیاد ہے۔

 

شیئر: