پنجاب پولیس کی ویڈیو بنانے پر پابندی

پنجاب پولیس شہریوں پر تشدد کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
پنجاب پولیس نے دوران ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کی ویڈیو بنانے اور انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
پنجاب پولیس کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر میں پولیس اہل کاروں کو ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کے آفس سے جاری کیے گئے اس نوٹیفیکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی کے باوجود پولیس اہلکار فون استعمال کرتے ہوئے پائے گئے ہیں جس پر تمام تھانوں کو سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔‘
تاہم ایس ایچ او یا تھانے کے انچارج افسران کو اس پابندی سے استثنی دیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس کے تشدد کرنے کی کئی ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

اڈیشنل آئی جی پنجاب آفس کی جانب سے صوبے بھر کے تھانوں کو اس ہدایت نامے پر عملدرآمد کرنے کا مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ نوٹیفیکیشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں پنجاب پولیس پر تھانوں میں شہریوں پر تشدد کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

تھانوں میں موبائل فون پر پابندی کا اطلاق سائلین پر بھی

ترجمان راولپنڈی پولیس انسپکٹرعمران عباس نے اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سائلین پر بھی تھانوں میں موبائل فون لے جانے کی پابندی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ تھانے میں آنے والے سائلین استقبالیہ پر موبائل فونز جمع کروائیں گے۔ صرف سمارٹ فون کو ہی تھانوں میں لے جانے پر پابندی ہوگی کمیرے کے بغیر موبوئل تھانوں میں لے جایا جاسکتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سائلین پر اس پابندی کا کیوں اطلاق کیا جارہا ہے تو ان کو کہنا تھا ’جب پولیس اہکار تھانوں میں موبائل فون استعمال نہیں کر سکتے تو پھر سائلین کیسے کر سکتے ہیں۔ سائلین کے موبائل فون پر متعدد کالز بھی آرہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے افسران کی ڈیوٹی کے دوران خلل پیدا ہوتا ہے۔‘ 
واضح رہے کہ اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کرنے کے الزام میں گرفتار صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد گذشتہ چند دنوں میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں پر تشدد کے واقعات کی متعدد ویڈیو سامنے آئی ہیں۔

اڈیشنل آئی جی پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والا نوٹیفیکیشن

جس کے بعد صوبے بھر کی پولیس اور حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
شہری ایک طرف پنجاب پولیس کے کلچر میں ریفارمز کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف شہریوں پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

شیئر: