Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ میں مسلمانوں سے متعلق نصف خبریں جانبداری کا شکار، نئی تحقیق میں انکشاف

سینٹر کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا برطانیہ میں سب سے بڑا مطالعہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
میڈیا مانیٹرنگ سینٹر کی ایک تازہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں 2025 کے دوران شائع ہونے والے تقریباً نصف ایسے نیوز آرٹیکلز، جن میں مسلمانوں یا اسلام کا ذکر تھا، کسی نہ کسی سطح پر جانبداری کا عنصر رکھتے تھے۔
عرب نیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً 70 فیصد خبریں مسلمانوں کو منفی رجحانات، مسائل یا رویّوں سے جوڑتی پائی گئیں۔
غیر منافع بخش اس تنظیم نے 30 بڑے برطانوی میڈیا اداروں میں شائع ہونے والے 40 ہزار سے زائد آرٹیکلز کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان میں سے تقریباً 20 ہزار تحریروں میں کسی نہ کسی درجے کی جانب داری موجود تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریف شدہ خبری رجحانات ’عوامی بیانیہ تشکیل دینے‘ اور مسلمانوں کے متعلق منفی تاثر کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
سینٹر کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا برطانیہ میں سب سے بڑا مطالعہ ہے جو ’مسلمانوں کی میڈیا کوریج میں تعصب‘ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیرِ جائزہ 70 فیصد مضامین نے مسلمانوں کے حوالے سے منفی پہلوؤں کو اجاگر کیا، جبکہ 44 فیصد خبروں میں اہم سیاق و سباق شامل نہیں تھا۔ اسی طرح 17 فیصد رپورٹس عمومی الزام تراشی اور 13 فیصد میں کھلی غلط بیانی موجود تھی۔
رپورٹ میں یہ رجحانات ’اطلاعات کی ساکھ کے بحران‘ سے تعبیر کیے گئے ہیں، جو عوامی فہم و شعور کو مسخ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دائیں بازو سے وابستہ نشریاتی ادارے اور اخبار سب سے زیادہ تعصب کا شکار پائے گئے۔ سپیکٹیٹر اور جی بی نیوز کو ’انتہائی جانبدار‘ مواد شائع کرنے والے اداروں میں سرفہرست قرار دیا گیا۔
دیگر اداروں میں ڈیلی ایکسپریس، سن، ڈیلی میل، ٹائمز اور ٹیلی گراف بھی شامل ہیں، جبکہ بی بی سی اور بائیں بازو سے منسلک میڈیا اداروں میں جانب داری کی شرح سب سے کم رہی۔
یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی مسلمان امتیازی سلوک میں مسلسل اضافے کی شکایات کر رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 

شیئر: