ہفتے میں چار دن کام اور سرکاری گاڑیوں کا استعمال کم، پاکستان میں کفایت شعاری پالیسی کا اعلان
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے قومی کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50فیصد کی کمی کی جائے گی جبکہ ہفتے میں چار دن کام کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پیر کی رات قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’پورا خطہ جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے۔ امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔‘
انہوں نے سعودی عرب، امارات، اردن، قطر، بحرین، عمان، کویت، ترکیہ اور آذربائیجان پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ان ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مغربی سرحد پر ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ’ایران پر اسرائیلی حملوں اور وہاں سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہات پر پاکستان میں گہرے دُکھ کا اظہار کیا گیا۔‘
معاشی صورتحال اور تیل کی قیمتیں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔ ’ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس کی فراہمی پر ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’معاشی فیصلے آسان نہیں تھے۔ مشکل عالمی حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے میرا دل اور دماغ ایک کشمکش سے گزرے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے درمیانی راستہ نکالا کہ آپ پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔‘
انہوں نے عام پاکستانیوں کے موجودہ حالات سے متاثر ہونے کے بارے میں اپنے آگاہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔
’اگلے آنے والے چند دنوں میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھیں گی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا میری کوشش ہوگی کہ اس کا بوجھ آپ پر نہ پڑے۔ اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔‘
خطاب کے آخری حصے میں انہوں نے کہا کہ ’اب اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔‘
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں بتایا کہ ’حکومتی معاملات میں سادگی اختیار کرنے کے لیے متفقہ فیصلے کیے گئے۔ تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50فیصد کی کمی کی جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ اگلے دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وزرا، مشیروں اور سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز پر بھی عائد ہوگی۔‘
پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری محکموں میں فرنیچر اور ایئرکنڈیشنڈ کی خریداری پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ’افطار پارٹیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
