صومالیہ کی جڑی ہوئی بچیوں رحمہ اور رملا کی حالت آپریشن کے بعد مستحکم
آئی سی یو یونٹ سے جلد پیڈیاٹرک وارڈ میں منتقل کیا جائے گا۔(فوٹو: ایس پی اے)
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ جو سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ اور شاہ سلمان مرکز کے جنرل سپروائزر ہیں، نے کہا کہ’ کامیاب سرجری کے بعد صومالیہ کی باہم جڑی ہوئی بچیوں رحمہ اور رملا کی حالت مستحکم ہے۔‘
دونوں بچیوں کو ریاض میں وزارت نیشنل گارڈ کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ ہسپتال میں جمعرات 5 مارچ کو کامیابی سے ایک دوسرے سے الگ کیا گیا تھا۔
ایس پی اے کے مطابق ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ رحمہ کی سانس معمول پر آگئی ہے، طبی ٹیم نے وینٹی لیشن ڈیوائسز اور فیڈنگ ٹیوبز ہٹا دیں۔ اب وہ ویٹیلیشن کے بغیر معمول کے مطابق سانس لے رہی ہے دیگر وائٹل بھی مستحکم ہیں۔ آئندہ دو دن میں نیچرل بریسٹ فیڈنگ شروع کردے گی۔‘
جبکہ دوسری بہن رملا کی حالت بھی مستحکم ہے۔ منگل کو وینٹی لیٹر ہٹائے جانے کی توقع ہے تاہم گردے کی خرابی کے باعث ہیموڈائیلاسز جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا ’دونوں بچیوں کی حالت تسلی بخش اور سرجری کی حالت اچھی ہے۔ میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے لیے کوئی تشویشناک علامت نہیں ہے۔‘
’دونوں بچیاں تین سے پانچ دن تک آئی سی یو یونٹ میں رہ سکتی ہیں۔ اس کے بعد انہیں پیڈیاٹرک وارڈ میں منتقل کیا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ جڑی ہوئی بچیوں کو جدا کرنے کی سرجری آٹھ مراحل میں تقریباً 14 گھنٹے میں مکمل کی گئی۔
شاہ سلمان کی ہدایت پر جڑی ہوئی بچیوں کو گزشتہ برس چھ مئی کو والدین کے ہمراہ سعودی عرب لایا گیا تھا۔
سعودی عرب جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ملک ہے۔ مملکت کی ان کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر کے ممالک اور تنظیمیں کر رہی ہیں۔
1990 سے اب تک اس طرح کے کامیاب آپریشنوں میں سعودی عرب نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ 35 برسوں کے دوران سعودی عرب میں 28 ممالک کے 68 جڑے ہوئے بچوں کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔
