معذور ملازم کی تنخواہ میں کٹوتی کیوں؟ 

 کٹوتی سے پریشان ہوکر وزیر عدل سے رعایت کی اپیل کر دی
 مملکت کے مشرقی ریجن میں عدالت  کے  ایک معذور ملازم نے تنخواہ  میں   مسلسل کٹوتی سے پریشان ہوکر وزیر عدل سے  رعایت کی  اپیل کر دی   ۔ چھٹی سے قبل گھر جا نے پر ہونے والی کٹوتی 40 ہزار ریال تک پہنچ گئی ۔متاثرہ شخص نے اپنی مجبوری بیان کرتے ہوئے وزیر عدل سے خصوصی مراعات کی  اپیل  کی ۔ سبق نیوز نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ جازان ریجن کی ایک عدالت میں ملازم جو کہ معذروی کی وجہ سے ویل چیئر استعمال کرنے پر مجبور ہے وقت مقررہ سے قبل چھٹی کرنے کے سبب ماہانہ تنخواہ کٹ جاتی ہے ۔ 

 معذوری کی وجہ سے ویل چیئر پر رہنا پڑتا ہے

متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ وزیر عدل اسکے کیس کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہوئے خصوصی احکامات جاری کریں ۔ محمد عبدہ صمیلی نامی شخص کا کہنا تھا کہ وہ پیدائشی معذور نہیں تھا ۔10 برس کی عمر میں اسکا نچلا دھڑمتاثر ہو کر ناکارہ ہو گیا جس کی وجہ سے زندگی ویل چیئر تک محدود ہو گئی ۔ 22 برس قبل  جازان کی عدالت میں روزگا ر مل گیا اسی دوران پرائیوٹ طور پر اپنی تعلیم جاری رکھی اور گریجویشن کرنے کے بعد گریڈ 7 پر ترقی دے دی گئی ۔
عبدہ نے مزید بتایا کہ اب وہ  عدالت میں گریڈ 10 کا ملازم ہے ۔ اسکا کہنا تھا کہ معذوری کی وجہ سے ویل چیئر پر رہنا پڑتا ہے جس کے سبب نماز ظہر کے وقت جلدی گھرجانے کی مجبوری تھی کیونکہ ویل چیئر پر ہونے کی وجہ سے گھر جانے پر مجبورتھا۔ گھر جاکر نماز سے فارغ ہوکر واپس آنے تک دفتر کا وقت بھی ختم ہو جاتا اس لئے چھٹی کے وقت فنگر پرنٹ کی گنجائش نہیں رہتی  ۔جب تک ادارے کی انتظامیہ جازان ریجن میں تھی تو معاملہ درست تھا مگر جب سے انتظامیہ ریجن سے منتقل ہو گئی ہے اسے حاصل ہونے والی مراعات بھی ختم کر دی گئی جس کی وجہ سے ہر ماہ تنخواہ کٹ جاتی ۔ متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اب تک 40 ہزار ریال اس مد میں کٹ چکے ہیں ۔

چھٹی کے وقت فنگر پرنٹ کی گنجائش نہیں رہتی

وزیر عدل کے نام اپیل میں عبدہ نے لکھا ہے کہ اس کی معذوری کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر عدل و انصاف خصوصی رعایت کرتے ہوئے اسے جلدی گھر جانے کی خصوصی اجازت کے احکامات صادر کریں کیونکہ اگر اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور ہر ماہ تنخواہ کٹتی رہی تو میرے لئے بے حد مشکل ہو جائے گا کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے ایک تو معاشی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے دوسرے تنخواہ میں ہونے والی کٹوتی سے گھر کے حالات بے حد سنگین ہو جاتے ہیں ۔ 
 

شیئر: