ایران کےخلاف اقدمات کا مطالبہ

سعودی سفیر شہزادہ عبداللہ بن خالد نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں موقف پیش کیا۔
سعودی عرب نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور تجاوزات پر عالمی برادری سے ایران کے خلاف عبرتناک اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ عبداللہ بن خالد نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی گورنرز کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب کا موقف پیش کیا۔
الشرق الاوسط کے مطابق شہزادہ عبداللہ بن خالد نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ایجنسی کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خلاف ورزیوں نے ثابت کر دیا کہ ایٹمی معاہدے میں خامیاں ہیں۔ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق جامع بین الاقوامی معاہدے کی اشد ضرورت ہے ۔ایسا معاہدہ درکار ہے جو ایران کو کسی بھی حالت میں ایٹمی طاقت نہ بننے دے ۔
سعودی سفیر نے کہا کہ نئے معاہدے میں ایران کے تمام ٹھکانوں کی تفتیش کا ٹھوس طریقہ کار متعین ہو ۔اس کے تحت اسکے عسکری ٹھکانوں کی تفتیش بھی کی جا سکتی ہو ۔خلاف ورزی کی صورت میں ایران کے خلاف فوری موثر سزائیں بحال کرنے کا طریقہ کار بھی مقرر ہو ۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسیوں کی رپورٹیں اب بھی انتہائی اہم معلومات سے خالی ہیں

سعودی سفیر نے مزید کہاکہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر دستخط کے بعد پابندیاں اٹھانے پر حاصل ہونیوالی آمدنی اپنے عوام کے معاشی حالات بہتر بنانے اور ملک کی تعمیر و ترقی پر خرچ نہیں کی ۔ایران نے یہ ساری آمدنی پڑوسی ممالک میں ہنگامے برپا کرنے اور خطے کے امن و استحکام کو تہہ و بالا کرنے کےلئے وقف کر دی ۔سعودی سفیر نے کہا کہ گزشتہ40برس کے دوران ایران کا جارحانہ ریکارڈ خطے میں اس کے عزائم کا پتہ دے رہا ہے ۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی تازہ رپورٹوں نے اس امر کی تصویق کر دی کہ ایران ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔
سعودی سفیر نے مزید کہا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسیوں کی رپورٹیں اب بھی انتہائی اہم معلومات سے خالی ہیں۔مثلاً ایران نیول نیوکلیئر کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے ، رپورٹوں میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ۔

شیئر: