سعودی تیل تنصیبات پر حملے: سیٹلائٹ ثبوت کیا ہیں؟

حملوں کی ذمہ داری یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے قبول کی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکہ نے سعودی عرب میں ہفتے کو آرامکو پلانٹ پر کیے جانے والے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے دعوے کے ثبوت میں سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس معلومات جاری کی ہیں۔
واضح رہے کہ ایران نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ڈرون حملوں کی ذمہ داری یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے قبول کی تھی ۔
امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی میڈیا کوبتایا کہ ان حملوں کی سمت اور حد دیکھنے کے بعد ان کے پیچھے حوثی باغیوں کا ہاتھ ہونے پر شکوک پیدا ہو گئے۔

حملوں کی سمت اور حد دیکھنے کے بعد  حوثی باغیوں کا ہاتھ ہونے پر شکوک پیدا ہو گئے۔

 العربیہ نیٹ کے مطابق امریکی ذ مہ دارں کا کہنا ہے کہ شواہد اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ یہ حملے کروز میزائل کے ذریعے کیے گئے اور ان کے لیے عراق یا ایران کی سرزمین استعمال ہوئی۔
 امریکی حکام کے مطابق معلومات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ حملہ یمن سے ڈرون کے ذریعے نہیں کیا گیا۔ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دوران آرامکو کے دو پلانٹس کے اندر 17 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ سعودی اور امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ گذشتہ روز آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایران یا عراق سے میزائل تو نہیں داغے گئے تھے؟
قبل ازیں وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تحقیقات میں شریک افراد نے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے سے متعلق حوثیوں کے دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سی این این نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعوٰی کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملہ یمن سے نہیں عراق سے کیا گیا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: