ڈرون حملے: امریکہ کارروائی کے لیے تیار

سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے مجرم کو جانتے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں مگر تصدیق اور سعودی حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
اپنی ٹویٹس میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’سعودی عرب کی تیل سپلائی پر حملہ کیا ہے۔ یقین کرنے کی وجہ موجود ہے کہ ہم مجرم کو جانتے ہیں۔ نشانہ پر رکھ چکے اور ہتھیار بند بھی ہیں مگر تصدیق چاہتے ہیں۔ سعودی مملکت سے سننے کے منتظر ہیں کہ وہ کس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں اور ہم کن شرائط پر کارروائی کریں۔‘
دوسری طرف صدر ٹرمپ نے امریکہ کے سٹریٹیجک پٹرولیم کے ذخائر سے تیل کی سپلائی کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تیل کی مقدار کا تعین مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔
’سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر سے تیل کی ترسیل کی منظوری دی ہے۔ ضرورت کے مطابق مقدار کا تعین کیا جائے۔‘

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

صدر ٹرمپ نے ایک الگ ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی ایرانی صدر سے ملاقات کی خبر جھوٹی ہے اور وہ کسی شرط پر بھی ایسی ملاقات کے لیے تیار نہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے سے تیل کی 50 فیصد پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
 قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے حملے کی مذمت کی اور تعاون کا یقین دلایا تھا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: