’حملوں کی تحقیقات، ماہرین شامل ہوں‘

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت ہے۔( فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب نےکہا کہ  اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین کو آرامکو پلانٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت  دی جائے گی۔
سعودی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 14 ستمبر کو تیل کی فراہمی کے لیے اہم پٹرولیم تنصیبات پر جارحیت اور سبوتاژ کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے آرامکو کی تیل کی پیدوار تقریباً پچاس فیصد معطل ہو گئی تھی۔
 

حملے کے نتیجے میں سعودی آرامکو کی پیداوار کا تقریبا 50 فیصد معطل ہے( فوٹو:اے پی)

 سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ اشارہ ملا ہے کہ استعمال کیے جانے والے ہتھیار ایرانی تھے تاہم ابھی یہ پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حملے کا ذریعہ کون ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی عرب اس گھناؤنے نے جرم کی مذمت کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے۔ 
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی سپلائی لائن حملے کا بنیادی ہدف ہے۔اس سے پہلے بھی سعودی آرامکو کے پمپنگ سٹیشنوں پر ہونے والے حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین کو دعوت دیں گے کہ وہ  زمینی صورتحال کا جائزہ لیں اور تحقیقات میں شامل ہوں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے  مطابق حملے سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہوگئے۔ ( فوٹو: ٹوئٹر)

 مملکت ، نتائج کی بنیاد پر سیکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے موزوں اقدامات کرے گی۔
 بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری نے اس حملے کی مذمت کی اور اسے مسترد کیا ۔سعودی عرب اس اقدام کی ستائش کرتا ہے۔ عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ عالمی معیشت کو خطرہ بننے والے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کے خلاف ایک مضبوط اور واضح موقف اختیار کریں۔
بیان میں سعودی عرب کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اپنے عوام اور سرزمین کا دفاع اور جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت ہے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: