فاطمہ، محسن خلع کی درخواست پر مصالحت کے لیے طلب

فاطمہ سہیل نے محسن عباس پر تشدد کا الزام لگایا تھا۔ فوٹو: ٹویٹر
لاہور کی فیملی کورٹ میں ماڈل فاطمہ سہیل کی اداکار محسن عباس سے خلع کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے دونوں میاں بیوی کو مصالحت کے لیے طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
جمعرات کو کیس کی سماعت فیملی کورٹ کے جج بابر ندیم نے کی۔ اس موقعے پر اداکار محسن عباس نے خلع کی درخواست پر اپنا جواب جمع کراتے ہوئے اہلیہ کی جانب سے کیے گئے خلع کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
محسن عباس نے عدالت کے سامنے استدعا کی کہ فاطمہ سہیل کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں لہٰذا ان کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
محسن عباس نے یہ بھی کہا کہ خلع کا دعویٰ فاطمہ سہیل کی دماغی بیماری کو ثابت کرتا ہے لہذا عدالت ان کی درخواست کو مسترد کرنے کا حکم دے۔
اس سے قبل 4 ستمبر کو فیملی کورٹ نے فاطمہ سہیل کی خلع کی درخواست پر محسن عباس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔

فاطمہ سہیل نے اپنی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔ فوٹو: ٹویٹر

فاطمہ سہیل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا ’میرا شوہر ذہنی مریض ہے، میری دیکھ بھال نہیں کر سکتا اس لیے میں مزید اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔‘
یاد رہے کہ اداکار محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے 20 جولائی کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے اپنے اوپر ہونے والے مبینہ تشدد کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کے شوہر کے ایک خاتون ماڈل کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔
فاطمہ سہیل نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے گذشتہ برس 26 نومبر کو محسن عباس کو ماڈل کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑا جس پر ان کے شوہر نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا باوجود اس کے کہ وہ اس وقت حاملہ تھیں، انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، لاتیں اور چہرے پر مْکے بھی مارے۔
فاطمہ سہیل نے شوہر پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی ایسی تصاویر بھی فیس بک پر پوسٹ کی تھیں جن میں ان کے چہرے پر زخموں کے واضح نشانات موجود تھے۔
دوسری جانب محسن عباس نے اپنی اہلیہ کے الزامات پر 22 جولائی کو جوابی نیوز کانفرنس کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے۔ ’جب فاطمہ سہیل سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھیں اور کہا کہ میں یہ نہیں ہونے دوں گی۔‘
اس کے بعد فاطمہ سہیل نے محسن عباس کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی لاہور میں مقدمہ درج کرا دیا تھا جس میں محسن عباس کو 23 جولائی کو عبوری ضمانت مل گئی تھی۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: