فاطمہ سہیل کے تشدد کے الزامات، محسن عباس کا انکار

ڈیفنس پولیس کے مطابق درخواست دینے والی خاتون سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ فوٹو: فاطمہ سہیل فیس بک
پاکستانی اداکارو گلوکار محسن عباس نے اپنی اہلیہ کی جانب سے تشدد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اگران کی اہلیہ سچی ہیں تو میڈیکل رپورٹ سامنے لے آئیں۔
محسن عباس نے اپنی  اہلیہ  فاطمہ سہیل کی طرف سے سوشل میڈیا پر شوہر کے مبینہ تشدد کی تصاویر کے حوالے سے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے  دعوی کیا کہ یہ تصاویر 2018 کی ہیں۔ ’اگر فاطمہ سہیل سچی ہیں تو پریس کلب آکر اپنے حالیہ تشدد کے نشان دکھا دیں یا تھانے جاکر میڈیکل رپورٹ جمع کرائیں۔ ’قصہ ہی ختم ہو جائے گا۔پولیس مجھے گرفتار کرلے گی۔`
 محسن عباس نے تسلیم کیا کہ ’مجھے غصہ آتا ہے اور میں بد زبانی بھی کرتا ہوں۔ تاہم اب کافی حد تک اس پر کنٹرول کرلیا ہے`۔
گلوکار نے اپنے سسر سے پیسے مانگنے کے الزام کی بھی تردید کی اور کہا کہ ’میں سیلف میڈ شخص ہوں، اپنے بل بوتے پر مقام اور پیسہ بنایا ہے۔‘
اس سے قبل محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے اپنے شوہر پرتشدد کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے لاہور کے ڈیفنس سی پولیس سٹیشن میں کارروائی کے لیے درخواست دی تھی۔
سوشل میڈیا پر صارفین دن بھر محسن عباس کی اہلیہ کی جانب سے پولیس کو دی جانے والی درخوست کا متن شیئر کر رہے ہیں۔
فاطمہ سہیل کی جانب سے اپنے شوہر پر تشدد کے الزام اور مبینہ تشدد کی تصاویر شئیر کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ ٹوئٹر پر ’محسن عباس حیدر‘ اور ’سٹاپ ڈومسٹک وائیلنس‘ کے ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم  افراد اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں۔
فاطمہ سہیل نے شوہر پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی ایسی تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں ان کے چہرے پر زخموں کے نشان ہیں۔
انھوں  نے فیس بْک پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے شوہر پر تشدد کا الزام لگاتے ہوتے لکھا کہ ’ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے۔‘  فاطمہ سہیل نے اپنے شوہر محسن پر ایک ماڈل گرل کے ساتھ تعلقات رکھنے کا بھی الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ برس 26 نومبر کو محسن عباس کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ محسن عباس نے اپنے کیے پر شرمندہ ہونے کے بجائے اْن پر تشدد کیا اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، لاتیں ماریں اور چہرے پر مْکے بھی مارے جب کہ اس وقت وہ حاملہ تھیں۔
محسن عباس کاکہنا تھا کہ کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے۔ ’ فاطمہ سہیل سے بات کی تو بھڑک اٹھیں اور کہا میں یہ نہیں ہونے دوں گی۔ شاید اندر کی جیلسی تھی کہ مجھے چھوڑنا بھی نہیں ہے اور ساتھ رہنا بھی نہیں ہے۔دوسرے وہ میرے ایک ٹی وی انٹرویو میں گھریلو زندگی کے ذکر پر بھی ناراض تھیں۔ اسی کے ردعمل میں رات دو ڈھائی بجے بچے کے ہمراہ گھر آ ئیں اور کہا کہ یہ گھر میرا ہے ،میں یہاں سے نہیں جاوں گی۔‘
محسن عباس کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی اذیت ناک زندگی میں رہنے سے بہتر ہے کہ آپ عزت اور تمیز سے الگ ہو جائیں اوراس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔اب مجھے طلاق ہی آخری حل نظر آتا ہے میرے خیال میں ایسا ہی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اپنا فیس بک اکا?نٹ استعمال نہیں کر رہا ،وہ شاید ہیک ہے۔میر ی طرف سے کوئی ری پلائی نہیں دیا گیا۔
خواتین پر تشدد اور ڈومیسٹک وائیلنس کے خاتمے کے لیے سرگرم کارکن نگہت داد نے ٹوئٹر پر فا طمہ سہیل کی ہمت بندھاتے ہوئے لکھا ’فاطمہ اگر آئندہ چند دنوں میں ان میں سے کچھ ہوا تو ہمت نہیں ہارنا۔ 1۔ کسی پرائیوٹ ویڈیو کا لیک ہونا (جو کہ فیک بھی ہو سکتی ہے)۔ 2 ہتک عزت کا دعویٰ۔  3۔ محسن عباس کا روتے ہوئے بیان۔ 4۔ سوشل میڈیا پر ا?پ کو ڈسکریڈٹ کرتے ہوئے ٹرولز‘
اداکارہ ماہرہ خان نے ٹویٹ کیا کہ ’میں پریشان ہوں کہ کیا چیز کسی کو دوسرے پر ہاتھ اٹھانے کا حق دیتی ہے؟ کوئی بھی نہیں، کوئی جواز نہیں۔ ہم نے تشدد (ہر قسم کی) کو معمول سمجھا ہوا ہے۔ اپنے بچوں کی خاطر اس کو روکنا پڑے گا۔‘
فیشن ڈیزائنر فریحہ الطاف نے لکھا کہ ’فاطمہ آپ اتنی بہادر ہیں کہ آگے آئیں اور گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے لیے دروازہ کھولا۔ پلیز، خوفزدہ نہیں ہونا، بولیے ! تشدد کئی اقسام کی ہوتی ہے جسمانی، ذہنی، زبانی، معاشی اور تنہائی کا۔ یہ ایک بیماری ہے۔‘
فریحہ الطاف کی ٹویٹ ری ٹویٹ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے لکھا کہ ’فاطمہ جیسے بہت ساروں کو مدد کی ضرورت ہے۔ میں اس سلسلے میں اسلام  آباد میں کسی بھی جگہ ملنے کے لیے اور اس ایشو کو اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ کئی قانون سازوں کو ڈومیسٹک وائیلس اور تشدد کا احساس ہے اور ہم نے کئی سال اس سلسلے میں قانون سازی کے لیے اکھٹے کام کیا ہے۔‘

شیئر:

متعلقہ خبریں