’فرجت‘ سکیم: ایک ہزار قیدیوں کی رہائی  

رہائی پانے والے قیدیوں کے ذمہ واجب الاد 40 ملین ریال جمع ہوئے (فائل فوٹو: عکاظ)
 سعودی وزارت داخلہ کی جانب قیدیوں کی رہائی کے لیے شروع کی جانے والی سکیم ’فرجت‘  کے تحت گذشتہ رمضان سے اب تک ایک ہزار قیدی رہائی پا چکے ہیں۔
عربی  اخبار عکاظ کے مطابق سکیم کے تحت رہائی پانے والے قیدیوں کے ذمہ واجب الاد 40 ملین ریال جمع ہوئے۔
 واضح رہے گذشتہ رمضان المبارک میں وزارت داخلہ کی جانب سے مملکت کی مختلف جیلوں میں ایسے قیدیوں کی رہائی کے لیے خصوصی سکیم ’فرجت‘ ( آسانی، سہولت ) کے عنوان سے جاری کی گئی تھی۔ سکیم سے وہ مقامی اورغیر ملکی قیدی مستفیض ہوسکتے ہیں جو فوجداری مقدمات میں ملوث نہ ہوں بلکہ جرمانوں یا قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث قید کاٹ رہے  ہیں۔
رہائی سکیم میں رقم جمع کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے خصوصی بینک اکائونٹ جاری کیے گئے ہیں جن میں کوئی بھی اپنی مرضی کی رقم جمع کروا سکتا ہے۔
قیدیوں کی رہائی کے لیے کہیں سے بھی رقم اکائونٹ میں جمع کراوئی جاسکتی ہے۔ امدادی رقم جمع کرانے والے کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ رقم کسی خاص قیدی کے لیے جمع کروائے یا عام اکائونٹ میں ارسال کرے۔ جمع ہونے والی رقم سے ان قیدیوں کے جرمانے ادا کرکے انہیں رہا کیا جاتا ہے۔ 
وزارت داخلہ کی جانب سے شروع کی جانے والی رہائی سکیم کے حوالے سے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک کارِ خیر ہے کیونکہ کسی کا قرض ادا کرکے اسے رہائی دلوانا بھی انسانیت کی خدمت ہے ۔ 

سکیم سے وہ  قیدی مستفیض ہوسکتے ہیں جو فوجداری مقدمات میں ملوث نہ ہوں(فائل فوٹو: ٹوئٹر وزارت داخلہ)

واضح رہے رہائی سکیم ’فرجت‘ کا آغاز 24 رمضان سے ہوا تھا اور محض پانچ دنوں میں 200 سے زائد قیدی اس سکیم سے مستفیض ہوئے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اس ضمن میں وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی سکیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کیا جارہا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اس سکیم سے لوگ مستفیض ہوسکیں۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: