’بادلوں اور بجلی کی چمک سے عشق ہے‘

سعودی فوٹو گرافر قدرت کے حسن کو کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں (فوٹو : العربیہ)
طائف سعودی عرب کا پر تفریح مقام ہے جو سطح سمندر سے 1700 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کی آب و ہوا انتہائی خوشگوار ہے، ہر وقت بادل گھرے رہتے ہیں جبکہ سال کے بیشتر دنوں میں بارش ہوتی رہتی ہے۔
طائف میں جب بھی آسمان بادلوں سے گھر جاتا ہے تو سعودی فوٹو گرافر عبد القادر المالکی اپنا کیمرہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر قدرت کے حسن کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے نکل جاتے ہیں۔

العربیہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’مجھے بچپن سے بادلوں سے عشق ہے، بارش اور بجلی کی چمک دیکھ سے مجھ سے رہا نہیں جاتا۔‘
عبد القادر المالکی نے کہا ہے کہ’ اسی شوق کی وجہ سے میں نے 2015 میں ایک پروفیشنل کیمرہ خرید لیا۔ اس وقت سے طائف میں بادلوں کی خوبصورتی، بارش اور بجلی کی چمک کی تصاویر بنا رہا ہوں۔‘

انہوں بتایا کہ ’بارش کے وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھلسنے کے خطرہ ہر وقت رہتا ہے مگر اس کے باوجود میں اپنا شوق پورا کرتا رہتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بجلی کی چمک کو کیمرے میں محفوظ کرنے کا کوئی طے شدہ وقت نہیں ہوتا۔ فوٹوگرافر کو موسم دیکھ کر نکلنا پڑتا ہے اور پھر کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔‘

سعودی فوٹو گرافر نے کہا ہے کہ ’بعض دفعہ کئی گھنٹے انتظار کرنے کے باوجود کوئی ایک اچھی تصویر نہیں بن پاتی جبکہ بعض مرتبہ حالات سازگار ہوں تو کئی بہترین تصویریں حاصل کی جاسکتی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ شوق پر خطر بھی ہے، آپ کو معلوم ہے کہ پہاڑوں پر موسلادھار بارش شروع ہوجائے تو آدمی وہاں پھنس بھی سکتا ہے۔‘

ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’ایک مرتبہ طائف کے ایک مقام پر تصاویر کھینچنے گیا ۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ جگہ لوگوں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی، اچانک بارش شروع ہوگئی اور میں تصاویر اتارنے میں مگن ہوگیا۔ جب کافی ساری تصاویر بنالیں تو مجھے خیال آیا کہ جس جگہ کچھ دیر پہلے لوگوں کی بھیڑ تھی، وہاں اب میرے سوا کوئی نہیں۔ بارش شروع ہوتے ہی لوگ محفوظ جگہ منتقل ہوگئے تھے اور میں وہاں پھنس گیا تھا۔ بڑی مشکل سے موسلادھار بارش میں وہاں سے نکل پایا۔‘
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: