’صحرا لوگوں سے ملنے چلا آیا ہے‘

اس خطے میں تین بڑے اور تاریخی طوفان آچکے ہیں (فوٹو: سبق)
سعودی عرب میں جب بھی ریت کا طوفان اٹھتا ہے تو مقامی شہریوں میں ایک کہاوت زبان زد عام ہو جاتی ہے۔
وہ کہاوت اتنی دلچسپ ہے کہ کافی عرصے سے مجھے شدید خواہش تھی کہ اس پر کچھ لکھا جائے مگر کبھی وقت نہ مل سکا اور کبھی طبیعت لکھنے پر مائل نہ ہوئی۔
 میں جس شہر میں رہتا ہوں وہاں کافی عرصے سے ریت کا طوفان نہیں آیا یا شاید طوفان تو آیا ہو مگر طبیعت لکھنے پر مائل نہ ہوئی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ طوفان بھی ہو اور طبیعت بھی لکھنے پر مائل ہو مگر وقت نہ ملا ہو۔
شاید سعودی عرب سے باہر رہنے والے لوگوں کے علم میں نہ ہو کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک بنیادی طور پر خیموں میں رہنے والوں اور بدوؤں کا معاشرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے رہائشیوں کو صحرا سے فطری محبت ہے۔

خطے میں آنے والے سنہ 2012 کے طوفان میں عراق کے ایک شہر کی سڑک کا منظر۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

یہی محبت انہیں صحرا کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے۔ موسم بہار شروع ہوتے ہی سعودی عرب، کویت، امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کے شہری صحرا کا رخ کرتے ہیں جہاں خیمے لگا کر ہفتہ بھر تفریح کی جاتی ہے۔
اسے یہاں کے عرف عام میں ’خیمے لگانے کا موسم‘ کہا جاتا ہے۔ پورے کا پورا خاندان صحرا میں جاکے خیمے لگاتا ہے۔ وہاں ایک ہفتہ قیام کے لیے تمام تر سہولتوں کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
رات کو مزیدار کچہری ہوتی ہے۔ سالم بکرہ سیخوں پر پکایا جاتا ہے۔ کوئلوں پر عربی قہوہ اور کالی چائے پکتی ہے اور گپیں ہانکیں جاتی ہیں۔
یہ بات بھی معروف ہے کہ گرد وغبار کے طوفان کی علمی وجہ یہ ہے کہ صحرا سے ریت اٹھتی ہے۔ جب ہوا کی کم سے کم  رفتار 80 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو تو شہروں میں گرد وغبار کا طوفان آجاتا ہے۔
تو معلوم ہوا کہ شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ریت کا طوفان اصل میں صحرا کی ریت ہے جسے تیز ہوا اٹھا کے لاتی ہے۔
اس خطے میں تین بڑے اور تاریخی طوفان آ چکے ہیں جنہیں لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔
آخری بڑا طوفان سنہ 2015 کے جنوری میں آیا تھا۔ یہ اتنا شدید تھا کہ دن میں رات چھا گئی تھی۔ حد نگاہ صفر ہوگئی تھی۔ اسی وجہ سے اس کا نام ہی ’کالی آندھی‘ رکھا گیا۔

خلیجی ریاستوں کے شہری صحرا کا رخ کرتے ہیں، خیمے لگا کر ہفتہ بھر تفریح کی جاتی ہے۔ (فوٹو: عکاظ)

اس طوفان میں ہوا کی رفتار 195 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی جس نے سعودی عرب، کویت، بحرین، امارات اور قطر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ہزاروں ٹن ریت و مٹی صحرا سے شہروں میں آ گئی تھی۔
اس سے پہلے 2012 میں بڑا طوفان آیا تھا جس نے شام اور عراق کو خاص طور پر متاثر کیا جبکہ سعودی عرب کے شمالی علاقے بھی اس سے متاثر ہوئے تھے۔ جدہ تک کا مطلع غبار آلود ہوگیا تھا۔ اس طوفان میں بھی دن کا اجالا رات کی تاریکی میں بدل گیا تھا۔
تیسرا بڑا طوفان 25 مارچ 2011 کو آیا تھا۔ اس سے خطے کے 12 ممالک متاثر ہوئے تھے اور ہزاروں ٹن مٹی شہروں میں آئی تھی۔ یہ طوفان تین دن تک جاری رہا تھا۔

 2015  میں آنے والے طوفان میں حد نگاہ صفر ہوگئی تھی (فوٹو: عاجل)

تو جس کہاوت کا میں نے اوپر ذکر کیا وہ یہ ہے کہ جب گرد وغبار کا طوفان آتا ہے تو سعودی کہتے ہیں کہ ’ہمارا صحرا کتنا اچھا ہے، کبھی ہم اس کے پاس چلے جاتے ہیں اور کبھی وہ ہمارے پاس آجاتا ہے۔
اب آئندہ کبھی گرد وغبار کے طوفان سے واسطہ پڑے تو اس کہاوت کو یاد کر لیں۔ یہ طوفان نہیں، بس صحرا کو ہم سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا، سو ہم سے ملنے چلا آیا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: