مدینہ میں کھجوروں کی ناپید ہونے والی اقسام پر تحقیق

ناپید ہونے والی اقسام کو دوبارہ کاشت کرنے کے لئے تحقیق کی جا رہی ہے (فوٹو: سبق)
مدینہ منورہ میں کھجوروں کی نا پید ہونے والی اقسام کو دوبارہ کاشت کرنے کے لئے ماہرین کی ٹیم تحقیق کر رہی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق کنگ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی (کاؤسٹ) کے ماہرین مدینہ منورہ میں کھجوروں کے پرانے درختوں کے نمونے حاصل کر رہے ہیں۔
کاؤسٹ میں نباتات کی پروفیسر ڈاکٹر اکرام بلیلو کی قیادت میں ماہرین کی ٹیم عجوہ کھجور پر بھی تحقیق کر رہی ہے۔
ڈاکٹر اکرام بلیلو نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دو ہزار قسم کی کھجوریں ہیں جن میں سے سعودی عرب میں صرف 400 قسمیں رہ گئیں ہیں۔

دوہزار قسم کی کھجوروں میں سے سعودی عرب میں صرف 400 قسمیں رہ گئیں ہیں (فوٹو: سبق)

انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم دو جہتوں پر تحقیق کر رہے ہیں، پہلا یہ کہ کھجوروں کی جو قسمیں نا پید ہوچکی ہیں ان کی جینیات کا تسلسل حاصل کریں تاکہ ان قسموں کو دوبارہ کاشت کیا جاسکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’یہ تحقیق انتہائی اہم ہے جس سے ہمیں معلوم ہوگا کہ قدیم زمانے میں کونسی کھجوریں مدینہ منورہ میں پائی جاتی تھیں جو اب نہیں رہیں‘۔
ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ ’ہماری تحقیق کا دوسرا پہلو خاص عجوہ کھجور سے متعلق ہے۔ ہم ایک طرف قدیم زمانے میں عجوہ کھجور کی خصوصیات جاننا چاہتے ہیں نیز یہ بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ دور میں عجوہ کھجور میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’ہماری تحقیق میں مدینہ منورہ میں کھجوروں کی بہتر طریقے سے کاشت، پھلوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانا اور زیادہ تیزی کے ساتھ معیاری کھجوریں حاصل کرنا بھی شامل ہے‘۔

تحقیق سے معلوم ہوگا کہ موجودہ دور میں عجوہ کھجور میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے ( فوٹو: سبق)

انہوں نے کہا ہے کہ ’کھجور کے درخت کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ واحد درخت ہے جو صحرائی علاقوں کی شدید گرمی اور نامساعد حالات میں بھی پھل دیتا ہے‘۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ’اس وقت سعودی عرب میں کھجوروں کی سالانہ پیداوار 1.1 ملین ٹن ہے۔ پوری دنیا میں کھجوروں کی 15 فیصد پیداوار سعودی عرب میں ہوتی ہے‘۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’2017 کے مقابلے میں 2018 کے دوران سعودی عرب میں کھجوروں کی برآمد میں 11.7 فیصد اضافہ ہوا ہے‘۔

شیئر: