سراغ رساں کتّوں کی تربیت کیسے ہوتی ہے؟

کتے قد، رنگ، نسل کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں لیکن انسان دوست ہوتے ہیں (فوٹو:اے ایف پی)
’ساڈا کتا کتا تے تہاڈا کتا ٹومی‘، امریکہ کی جانب سے ایک سراغ رساں کتے کونن کو ’ہیرو‘ قرار دینے اور میڈل کے لیے وائٹ ہاؤس بلانے کی خبر نگاہ میں آتے ہی سب سے پہلا خیال اسی محاورے کا آیا۔
یعنی کتا بھی تب تک کتا ہی ہے جب تک اس کا انگریزی نام نہ ہو، ویسے یہ محاورہ امتیاز کے خلاف ہے یہ اور بات کہ اس میں کتا بے چارہ خود ’امتیاز‘ کا شکار ہوا، بالکل ویسے ہی جیسے ایک جانب کتے کو وفادار کہا جاتا ہے تو دوسری جانب گالی کا لازمی جزو بھی ہے۔

انسان اور کتا

انسان اور کتے کا تعلق کب سے ہے، ان کی ملاقات کہاں ہوئی، پہلا کتا کس نے پالا، دونوں کب کب ایک دوسرے کے کام آئے، اس بارے میں تو زیادہ معلومات نہیں تاہم لگتا یہی ہے کہ اوائل زندگی سے ہی ساتھ رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں چالیس کروڑ کتے موجود ہیں جن میں تقریباً چار سو نسلیں شامل ہیں۔

جاسوس، سراغ رساں، سنیفر، پولیس، آرمی ڈاگ یا کے نائن یہ تقریباً ایک ہی ہیں تاہم یہ ضروری نہیں کہ ان کا تعلق بھی ایک نسل سے ہو (فوٹو:اے ایف پی)

کتے قد، رنگ، نسل کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں تاہم ان میں ایک قدر مشترک ہے کہ انسان دوست ہوتے ہیں، تھوڑی محبت کا جواب زیادہ محبت کی شکل میں دیتے ہیں۔
سونگھنے کی حِس
اگرچہ یہ حس انسانوں اور دوسرے جانوروں میں بھی ہے لیکن کتا سب سے آگے ہے اور انسان کی نسبت تقریباً پچاس گُنا زیادہ حس رکھتا ہے، اس کی یہی خصوصیت ہے جس نے آج کتے کو سکیورٹی کے اہم ترین معاملات میں شامل کر رکھا ہے۔
جاسوس کتے
جاسوس، سراغ رساں، سنیفر، پولیس، آرمی ڈاگ یا کے نائن یہ تقریباً ایک ہی ہیں تاہم یہ ضروری نہیں کہ ان کا تعلق بھی ایک نسل سے ہو، اس میں مختلف نسلوں کے جانور ہو سکتے ہیں تاہم جرمن شیفرڈ کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے اسی طرح کچھ اور نسلیں بھی یہ خدمات انجام دیتی ہیں جن میں بیلجیئن، ٹرویرن، بلڈ، باکسر، ڈوبرمین، روٹ ویلر، جائنت لیبریڈور، ریٹویئر، پوائنٹر، ہائونڈ، پنسچر اور کچھ دیگر شامل ہیں، ان کو تربیت کے خصوصی مراحل سے گزارا جاتا ہے اور ان کے باقاعدہ ٹرینرز ہوتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں چالیس کروڑ کتے موجود ہیں جن میں تقریباً چار سو نسلیں شامل ہیں (فوٹو:اے ایف پی)

جاسوس کتوں کی تربیت

اس کو ’اوبیڈینس ٹریننگ‘ کہا جاتا ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ تابعداری کرنا یعنی بات ماننا، دنیا میں کتوں کو دی جانے والی کمانڈز میں زیادہ تر انگلش اور ڈچ زبان میں ہیں، جس کی وجہ سے کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید کتے یہ زبان سمجھتے ہیں لیکن یہ درست نہیں۔چونکہ ان زبانوں کے چھوٹے الفاظ یاد کرنا آسان ہے اس لیے ایسا ہوتا ہے۔
دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ شروع سے اس کے ٹرینرز زیادہ تر انگریز یا ڈچ تھے اس لیے وہیں سے یہ سلسلہ شروع ہوا، اگر اردو یا کسی اور زبان میں بھی کتے کو ٹریننگ دی جائے تو وہ آہستہ آہستہ الفاظ کا مطلب سمجھ جاتا ہے اور ادا کرنے پر ویسا ہی عمل کرتا ہے۔
تربیت کا دورانیہ دس ہفتے کا ہوتا ہے، ٹرینڈ کتے نہ صرف جرائم کی روک تھام کرتے ہیں بلکہ ہنگامی مواقع پر جانیں بھی بچاتے ہیں اور یہ سب وہ بغیر مسائل پیدا کیے اور بدتمیزی کے کرتے ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہر آرڈر بھی فوری طور پر مانتے ہیں۔

منشیات، دھماکہ خیز مواد کی تلاش

کئی لوگ کہتے ہیں کہ جب کتا اتنی بے تابی سے منشیات کو ڈھونڈتا ہے تو اس کو کھا کیوں نہیں جاتا، تو اس کا جواب ہے کہ اس کو اس سے کوئی رغبت نہیں ہوتی وہ بس اپنا پسندیدہ کھلونا ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔

اگر اردو یا کسی اور زبان میں بھی کتے کو ٹریننگ دی جائے تو وہ آہستہ آہستہ الفاظ کا مطلب سمجھ جاتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

ظاہر ہے منشیات یا بارود کھلونے تو نہیں، پھر ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس کو تربیت دی جاتی ہے تو کپڑے کے ٹکڑے خصوصاً تولیے یا گیند سے مانوس کیا جاتا ہے اور وہ انہیں بار بار ڈھونڈتا ہے۔ اس کے بعد ان میں منشیات یا دھماکہ خیز مواد کی بُو ملائی جاتی ہے، کتا انہیں ڈھونڈتا رہتا ہے اور جب اسے کسی مشن پر لے جایا جاتا ہے تو وہ دراصل اپنا کھلونا ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔اس کے لیے زیادہ تر شہری علاقوں کے کتے زیادہ موزوں ہوتے ہیں، ویرانوں میں رہنے والے کتوں سے مشکل سے ایڈجسٹ ہوتے ہیں۔

چُستی اور چھلانگ

دیواروں پر چڑھنا اور کئی فٹ تک کا جمپ لگانا بھی ایسے کتوں کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہوتا کیونکہ یہ بھی ان کی ٹریننگ کا حصہ ہوتا ہے اس لیے آپریشنز میں ان کی اس صلاحیت سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ وہ اچانک اور بھرپور حملہ کر سکتے ہیں، ایسی ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں کسی کو یرغمال بنانے والے شخص کو ہتھیار کے باوجود کتے اچانک جا دبوچتے ہیں۔
زیادہ تر سراغ رساں کتے اپنے ٹرینرز کے ساتھ ہی رہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ عام کتے سے کامیاب سراغ رسانی تک مالک یا ٹرینر کا کردار بہت اہم ہے۔

دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سراغ رساں کتوں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

کے نائن کی ڈیوٹیز

یہ کتے انتہائی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور صورت حال کے حساب مختلف قسم کی خدمات انجام دیتے ہیں جن میں منشیات کی تلاش، دھماکہ خیز مواد کا پتہ چلانا، گم شدہ یا اغوا شدہ افراد تک رسائی، جبکہ ایسے مقامات تک پہنچنا جہاں کوئی جرم ہوا وغیرہ شامل ہیں۔
ڈیوٹی کے دوران وہ اپنے ہینڈلر کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور احکامات کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔
وہ اپنے ہینڈلر یا مالک کی آواز کے علاہ محض اشارے سے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ ان کو کیا کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ کسی جرم سے قبل ہی خبردار کریں اور اگر ہو گزرا ہے تو تحقیقات میں اداروں کی مدد کریں۔

جاسوس کتوں کے فوائد

سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ گھومتے، ایئرپورٹس پر کھڑے، پولیس، آرمی سنٹرز میں موجود سراغ رساں کتوں کی خدمات کے مثبت اثرات بہت زیادہ ہیں۔ یہ نہ صرف کسی حادثے یا جرم کے بعد حالات کو سمجھنے اور اصل وجوہات تک پہنچنے کی کوشش میں مدد دیتے ہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہی کی وجہ سے صورت حال کسی جرم یا حادثے تک جانے سے قبل ہی کنٹرول کر لی جاتی ہے۔

زیادہ تر سراغ رساں کتے اپنے ٹرینرز کے ساتھ ہی رہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہو جاتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

ان کتوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بھی عام لوگوں کو تنگ نہیں کرتے۔ کسی بھی رش کے مقام پر کتنے ہی لوگ پھر رہے ہوں لیکن یہ کسی پر نہیں بھونکتے نہ ہی پیچھے بھاگتے ہیں تاوقتیکہ ان میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کے پاس کوئی غیرقانونی چیز نہ ہو یا پھر کوئی جرم کر کے آ رہا ہو۔

ڈاگ بریڈنگ ٹریننگ سنٹر

دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سراغ رساں کتوں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں،اس حوالے سے پاکستان آرمی کے زیراہتمام راولپنڈی میں ایک باقاعدہ ٹریننگ سٹنر اور سکول بھی ہے۔ جس کو 1952 میں قائم کیا گیا۔ یہاں سے ہی تربیت یافتہ یونٹس کو فراہم کیے جاتے ہیں، پچھلے دنوں پاکستان آنے والے برطانوی شاہی جوڑے نے یہاں کا دورہ بھی کیا۔ یہاں پر کتوں کو ٹرین بھی کیا جاتا ہے جن میں، گارڈ، ٹریکر، مائن ڈیٹیکشن، نارکوٹس سنیفنگ، آرمز، ایکسپلوسیو سرچ، ریسکیو اور سرچ ڈاگز شامل ہیں۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: