پاکستان کے لیے ’قربانی‘

سکھ برادری طویل عرصے کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ کر رہی تھی، فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے ضلع نارووال میں سکھوں کے مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب تک رسائی کے لیے بنائی جانے والی کرتارپور راہداری کی سال سے بھی کم مدت میں تعمیر کو حکومت پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اس کامیابی میں کرتارپور راہداری کے اردگرد کے دیہاتوں کے مکینوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی زرخیز زمینیں اس مقصد کے لیے حکومت کے حوالے کیں تاکہ اس منصوبے کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہو سکے۔
انہیں امید ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور دنیا بھر میں سکھ مذہب کے ماننے والے پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کی قدر کریں گے۔  
اردو نیوز نے کرتارپور کے قریبی گاؤں دودھا کے متعدد مکینوں سے بات چیت کی جن کا کہنا تھا کہ گاؤں کے قریباً تمام گھرانوں کی آباد زمینیں  راہداری کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینوں کی فی ایکڑ قیمت مارکیٹ ریٹ سے  کم لگائی گئی مگرانہوں نے کم قیمت پر زمین کی قربانی اس  لیے دی کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔
گاؤں میں اس وقت بھی بچ جانے والی زمینوں میں چاول کی فصل کاشت کی گئی ہے۔ راہداری کی تعمیر کی گہما گہمی نے یہاں کی دیہی زندگی کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔

راہداری کی تعمیر کی گہما گہمی نے یہاں کی دیہی زندگی کو زیادہ متاثر نہیں کیا، فوٹو: اے ایف پی

 انڈیا کے بارڈر سے چند کلومیٹر دور اس گاؤں کے مکین اب بھی سادہ طرز زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔  گاؤں کے بچے راہداری کے اوپر حفاظتی پرواز کرتے ہیلی کاپٹرز کو دیکھ کر خوشی سے شور مچاتے ہیں اور ان کے پیچھے  بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گاؤں کو جانے والی ایک  سڑک راہداری کے راستے میں ضم ہو گئی ہے۔ اب گاؤں کو جو واحد  سڑک جاتی ہے اس پر بڑے بڑے کھڈے ہیں، تاہم یہاں کے مکین پرامید ہیں کہ کرتارپور راہداری کی تعمیر سے آس پاس کے علاقوں کی سڑکیں بھی بہتر ہوں گی اور وہاں تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
دودھا گاؤں میں قیام پاکستان سے قبل کی یادیں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ مکینوں نے کئی دکانوں کی نشاندہی کی جو تقسیم سے قبل ہندوؤں اور سکھوں کی ملکیت تھیں اور آج غیر آباد پڑی ہیں۔

گاؤں کے مکین کہتے ہیں کہ اب ان کی سڑکیں بھی پکی ہوجائیں گی، فوٹو: اردو نیوز

گاؤں سے باہر شہری علاقوں میں راہداری کی تعمیر پر خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ نارووال کے مکین اتنے زیادہ مہمانوں کی ایک دم آمد سے خوش گوار حیرت میں مبتلا ہیں۔ انہیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں علاقے میں مذہبی سیاحت کی صنعت کے فروغ سے مزید خوش حالی آئے گی۔
کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانگ نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ انہوں نے یہاں کھیتی باڑی بھی کی اور وہ یہیں مدفون ہیں۔
کرتارپور راہداری کا افتتاح بابا گرونانک کے 550 ویں یوم پیدائش پر حکومت پاکستان کی طرف سے سکھوں کے لیے ایک تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: