’کرتار پور راہداری میں رکاوٹ نہیں آئے گی‘

گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ کرتار پور راہداری پاکستانیوں کی سکھوں سے محبت کی علامت ہے.
بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے حوالے سے لاہور میں تین روزہ بین الاقوامی سکھ کنونشن کا آغاز ہو گیا ہے، کنونشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ انڈیا سے کشیدگی کے باوجود کرتار پور راہداری میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی، سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان قربت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، کرتار پور راہداری اسی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہی دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہداری بھی بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو مذہب سے بالاتر ہو کر مظلوم کی مدد کرنی چاہیے۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت سکھ برادری کی مذہبی مقامات تک رسائی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور وزیراعظم عمران خان کا کرتار پور راہداری سے متعلق عزم اقلتیوں سے ہمارے رشتے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

نعیم الحق کا کہنا ہے کہ بابا گرونانک کے یوم پیدائش پر سکھوں کو ملٹی پل ویزا جاری کریں گے

فردوس عاشق اعوان کہنا تھا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان امن کا سفیر بن رہا ہے، کشمیر کا مسئلہ جب تک حل نہیں ہو گا پاکستان اور انڈیا کے درمیان بحران رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کشمیر میں قتل و غارت گری سے باز نہ آیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ سکھ برادری پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کرتی ہے اور مظلوم کشمیری سکھ برادری کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔
کنونشن سے خطاب میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ کرتار پور کوریڈور ہر حال میں کھولا جائے گا اور کشمیر پر پاکستان کا موقف کبھی تبدیل نہیں ہو گا۔

 کنونشن میں کینیڈا، انڈیا، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے سکھ رہنما اور سکالرز شریک ہیں

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا کہ نومبر میں بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ پر سکھ یاتریوں کوپاکستان کے ملٹی پل ویزے کی سہولت دی جائے گی۔ کنونشن میں شریک غیر ملکی سکھ مندوبین یاترا کے لیے ننکانہ صاحب بھی جائیں گے.
 کنونشن کے آخری روز تصاویر کی نمائش کی جائے گی۔ تین روزہ بین الاقوامی سکھ کنونشن میں کینیڈا، انڈیا، برطانیہ، فرانس، امریکہ اور دیگر ممالک سے پچاس سے زائد سکھ رہنما اور سکالرز شریک ہیں۔

شیئر: