منفرد اقامہ ہولڈرز کے لیے نئی سہولت کیا ہے؟

پراپرٹی سیکٹر میں 99 برس کی مشروط سرمایہ کاری کی سہولت دی گئی ہے۔
سعودی عرب میں منفرد اقامہ (اقامہ ممیزہ) رکھنے والوں کو مکہ اور مدینہ کے پراپرٹی سیکٹر میں 99 برس کی مشروط سرمایہ کاری کی سہولت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ غیر ملکی مکہ اور مدینہ میں پراپرٹی سیکٹرمیں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے تھے۔ نئے قانون کو سرمایہ کاری کی ایک شکل کہا جاسکتا ہے تاہم اس پر ملکیت کی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔
منفرد اقامہ سینٹر نے پراپرٹی سیکٹر میں مشروط سرمایہ کاری کے لیے لائحہ عمل تیار کیا تھا جسے وزارت عدل و انصاف اور وزارت تجارت و سرمایہ کاری نے منظور کر لیا ہے۔

مشروط سرمایہ کاری کرنے کے لیے تین ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔

عاجل ویب نیوز کے مطابق منفرد اقامہ رکھنے والوں کے لیے مکہ اور مدینہ میں پراپرٹی سیکٹر میں مشروط سرمایہ کاری کرنے کے لیے تین ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔
ضوابط کے مطابق دونوں شہروں میں دوسروں کی جائیداد سے نفع حاصل کرنے والے غیر ملکی کو 99 برس کے لیے معاہدہ کرنا ہو گا۔ ایگریمنٹ باقاعدہ کسی مستند قانونی فرم یا لائسنس یافتہ وکیل کے توسط سے تیار کیا جائے گا۔ پراپرٹی کے لیے معاہدے کی شرائط منفرد اقامہ سینٹر کی نگران کمیٹی کے اشتراک سے تیار کی جائیں گی۔
فریقین کے دستخط کے بعد معاہدے کو وزارت عدل و انصاف میں رجسٹر کرایا جائے گا۔
وزارت عدل کے ذیلی ادارے کی جانب سے 99 برس کے لیے مشروط لِیز کی دستاویز رجسٹر کی جائے گی جس کے بعد منفرد اقامہ ہولڈر کو اختیار ہو گا کہ وہ حاصل کی جانے والی جائیداد سے کس طرح منافع کمائے۔
واضح رہے کہ مشروط لِیز اور ملکیت میں فرق ہے۔
مقررہ محدود مدت کے لیے لی جانے والی جائیداد سے منافع حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم پراپرٹی قانون کے مطابق مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ منفرد اقامے یعنی 'اقامہ ممیزہ' کے قانون کے تحت شرط رکھی گئی تھی کہ منفرد اقامہ ہولڈرز مکہ، مدینہ اور سرحدی علاقوں میں جائیداد نہیں خرید سکتے تاہم انہیں سعودی عرب کے دیگر شہروں میں جائیداد کی خرید و فروخت اور اسے کرائے پر دینے کی اجازت ہو گی۔

شیئر: