ایران کے خلاف خطے کو متحد ہونا پڑے گا،شاہ سلمان

بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل جل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔فوٹو :ایس پی اے
 سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ خلیج کے خطے کو ایران کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔خلیجی تعاون کونسل اپنے قیام کے بعد سے لے کر اب تک پیش آنے والے بحرانوں پر قابو پاتی رہی ہے۔
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق منگل کو ریاض میں 40 ویں خلیجی سربراہ کانفرنس سے صدارتی خطاب میں شاہ سلمان نے کہا ’ فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق سعودی عرب کا موقف غیر متزلزل ہے۔ فلسطینی عوام کو خود مختار فلسطینی ریاست قائم کرنے اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کا حق حاصل ہے‘۔

شاہ سلمان نے کہا فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق سعودی عرب کا موقف غیر متزلزل ہے۔فوٹو :ایس پی اے

شاہ سلمان نے زور دے کر کہا’ ایرانی نظام جارحانہ پالیسیوں اور پڑوسی ممالک کے استحکام کو سبوتاژ کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ خلیج کے علاقے کو ایران کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ جی سی سی ممالک کو بیلسٹک میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے خود کو محفوظ کرنا ہوگا‘۔
’ خلیج کا خطہ ان دنوں نازک حالات اور چیلنجوں سے گزر رہا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر چلانا ہوگا‘۔
 شاہ سلمان نے مزید کہا ’ایران خطے میں امن و استحکام کو سبوتاژ اور دہشتگردانہ سرگرمیوں کی مدد کے لیے جارحانہ کام کررہا ہے۔ہمیں اپنے ممالک او راقوام کے مفادات کی حفاظت کرنا ہوگی ۔

رب اتحاد، یمنی عوام اور حکومت کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔فوٹو :ایس پی اے

 ’ایرانی نظام کی دخل اندازیوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل جل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ ایران کے ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائل کو جدید خطوط پر استوار کرنے والے پروگرام سے سنجیدگی سے نمٹنا ہوگا‘۔
شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ یمنی بھائیو ں کی جدوجہد خصوصاً یمن کی آئینی حکومت کی جانب سے ریاض معاہدہ طے کرنے کے سلسلے میں مخلصانہ مساعی قابل قدر ہے۔عرب اتحاد، یمنی عوام اور حکومت کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یمن کا سیاسی حل ضروری ہے۔

شیئر: