Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان ’ہر صورت اور ہر حال میں‘ سعودی عرب کی حمایت کرے گا: بلومبرگ

گذشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ (فوٹو: روئٹرز)
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں پر حملوں کے بعد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان ’ہر صورت اور ہر حال میں‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ضرورت پڑنے پر ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیا، جسے گذشتہ برس ستمبر میں دستخط ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے نے مزید مضبوط بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کے لیے آنے کے حوالے سے ’کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ شاید آئیں، ہم ضرور آئیں گے، چاہے جو بھی ہو اور جب بھی ضرورت پڑے۔‘
’دفاعی معاہدے سے پہلے بھی دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کے اصول پر عمل کرتے رہے ہیں۔‘
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی طور پر قریبی عسکری اور تزویراتی تعلقات رہے ہیں، اور نیا معاہدہ ایسے وقت میں سکیورٹی تعاون کو مزید بلند سطح پر لے گیا ہے جب خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
مشرف زیدی نے کہا کہ پاکستان سفارتی سطح پر بھی کوششیں کر رہا ہے تاکہ تنازع مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا کر رہا ہے تاکہ صورتحال اس نہج تک نہ پہنچے جہاں اس کے قریبی شراکت دار کسی ایسے تنازع میں مزید الجھ جائیں جو خطے کے استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور خطے میں وسیع پیمانے پر تنازع کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان کے ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی تیل اور ڈیزل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتظامات کیے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدات پر انحصار کرنے والی جنوبی ایشیائی معیشت کے لیے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔

 

شیئر: