Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الباحہ میں صحرا نشینوں کی رمضان محفلیں، ’ورثے اور روحانیت کی عکاس‘

سعودی عرب کے علاقے الباحہ میں رمضان المبارک کے دوران روایتی محفلوں کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ ماہ مبارک میں محفلوں کا انعقاد روحانیت کے ساتھ ساتھ قدیم رسم و رواج کی بھی عکاس ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق الباحہ ریجن کے مشرق میں واقع العقیق کمشنری کے رہائشی رمضان المبارک کے دوران صحرا نشین کی طرز زندگی کی یادوں کو تازہ اور مقامی شناخت و ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتے ہیں۔
علاقے کے ایک شہری عائض الغامدی کا کہنا تھا کہ ’صحرا نشین ماضی میں ماہ شعبان کا حساب لگانے کے لیے روایتی طریقے اختیار کیا کرتے تھے، بعض لوگ دھاگے میں گرہ لگاتے تھے جو ہر ایک دن کا حساب ہوتا۔
جبکہ کچھ لوگ اپنے خیموں کی دیواروں پر لکیریں کھینچ کر دنوں کو یاد رکھتے تھے۔ جب یہ لکیریں یا گرہیں مکمل ہونے کے قریب ہوتیں تو رمضان کی تیاریاں شروع کر دی جاتی تھیں۔
عائض الغامدی کا مزید کہنا تھا کہ ’اگرچہ ماضی میں وسائل انتہائی محدود ہوا کرتے تاہم اس کے باوجود لوگ رمضان میں ایک دوسرے سے ملنے، رشتہ داروں کی عیادت کرنے کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے جس کا مقصد صلہ رحمی کی اقدار کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
رمضان کی یہ محفلیں آج بھی العقیق کمشنری میں منعقد کی جاتی ہیں جہاں بزرگوں اور نوجوانوں کو اکھٹا کیا جاتا ہے۔ ان میں پرانی داستانیں اور واقعات سے نئی نسل کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’بدوی خیمے اور ان میں استعمال ہونے والی اشیا صحرا نشین کی طرز زندگی کی تاریخ اور اس کے مخصوص سماجی انداز کی علامت ہیں، انہی خیموں میں منعقد ہونے والی رمضان محفلیں باہمی الفت وسماجی تعاون کی اقدار کو نمایاں کرتی ہیں۔

 العقیق کمشنری کی رمضان محفلوں میں شاعری اور قصے کہانیاں بھی سنائی جاتی ہیں، جن میں قدیم زمانے کی زندگی، رمضان ور عید کی تیاریوں اور دیگر انسانی پہلوں کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ روایت محبت، میل جول اور سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
خیال رہے الباحہ میں ہونے والی محفلوں میں علاقے کی ثقافت اور قدیم تہذیب کی جھلک نمایاں ہوتی ہے جو معاشرے سے تعلق اور روایات و اقدار سے وابستگی کی عکاس بھی ہیں۔

شیئر: