Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شاہ سلمان مرکز کا خواتین کی مدد کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے فلاحی منصوبے

کے ایس ریلیف نے افغانستان میں فوڈ ایڈ فراہم کی اور یمن میں میڈیکل سپلائی اور زرعی سامان تقسیم کیا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف سینٹر) نے کہا ہے کہ اس نے خواتین کی مدد کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے فلاحی کام انجام دیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق 1244 پروجیکٹس کے تحت 23 کروڑ تین لاکھ خواتین نے فائدہ اٹھایا جو 94 کروڑ ڈالر سے زائد رقم بنتی ہے۔
ادارے کی جانب سے اس بات کا اعلان انٹرنیشنل ویمنز ڈے کے موقعے پر کیا گیا جب سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔
کے ایس ریلیف کا ایک پروجیکٹ یمن میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ووکیشنل اور پروفیشنل ٹریننگ کا بھی ہے۔
اس پروجیکٹ کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر سکھائے گئے جس کی مدد سے وہ لیبر مارکیٹ میں داخل ہو سکتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور مقامی معیشت کو بحال کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ کے ایس ریلیف نے بحران سے متاثرہ خواتین اور بچوں کی نفسیاتی مدد بھی کی جس سے ٹراما کا شکار افراد ٹھیک ہو سکتے ہیں اور ذہنی صحت کو فروغ ملتا ہے۔ اس کے علاہ خواتین کو روزمرہ کی زندگی کی مشکلات کو اعتماد اور آزادی کے ساتھ حل کرنے کی قوت بھی فراہم کی گئی۔

کے ایس ریلیف نے خواتین کے لیے مواقع کو بڑھاتے ہوئے رینیوایبل انرجی پروجیکٹس کو پھیلایا جس میں سولر انرجی سے مسائل کا حل اور چھوٹے کاروبار میں خواتین کی شمولیت کو بڑھایا گیا تاکہ وہ پائیدار آمدنی حاصل کر سکیں۔
ادارے کی جانب سے لبنان، یمن اور صومالیہ میں خواتین کے لیے ہیلتھ کیئر اور ریپروڈکٹیو سروس بھی فراہم کی گئی۔ یہ سروس آپریٹنگ سینٹرز کی مدد سے دی گئی جہاں طبی آلات اور ضروری سامان فراہم کیا گیا جس میں سپیشل سرجیکل پروسیجرز بھی شامل تھے جس سے خواتین اور لڑکیوں کو بھرپور کیئر فراہم کی گئی۔
کے ایس ریلیف نے معاشرے کی ترقی اور اس میں خواتین کے کردار کے اعتراف میں خواتین کا عالمی دن منایا۔

حالیہ دنوں میں کے ایس ریلیف نے افغانستان میں فوڈ ایڈ فراہم کی اور یمن میں میڈیکل سپلائی اور زرعی سامان تقسیم کیا۔
اس کے علاوہ  کے ایس ریلیف نے یمن میں بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں ختم کرنے کا پروگرام شروع کیا جس کے بعد 2018 سے لے کر اب تک پانچ لاکھ 44 ہزار سے زائد بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔

 

شیئر: